کسانوں کو 2013 سے پہلے ایکوائر کی گئی اراضی کا بھی اضافی معاوضہ ملے گا۔
نئی دہلی، 25 مارچ (ہ س) سپریم کورٹ نے حصول اراضی کے معاملے میں کسانوں کو راحت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے فیصلہ دیا کہ 2013 سے پہلے ایکوائر کی گئی زمین کے لیے بھی زیادہ معاوضہ اور سود ادا کرنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا
معاوضہ


نئی دہلی، 25 مارچ (ہ س) سپریم کورٹ نے حصول اراضی کے معاملے میں کسانوں کو راحت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے فیصلہ دیا کہ 2013 سے پہلے ایکوائر کی گئی زمین کے لیے بھی زیادہ معاوضہ اور سود ادا کرنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کسانوں کے معاوضے کو محض مالی بوجھ کا حوالہ دے کر کم نہیں کیا جا سکتا۔

نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں 2013 سے پہلے ہائی وے کے مختلف پروجیکٹوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی پر بڑھے ہوئے معاوضے اور سود کے بارے میں پچھلے فیصلوں پر نظرثانی کی درخواست کی گئی تھی۔ این ایچ اے نے دلیل دی کہ 2013 کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے بعد سے حکومت پر معاوضے کے مالی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے ۔جوتقریبا29 ہزارکروڑ روپے کی رقم ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف وہ زمیندار جن کے بڑھے ہوئے معاوضے کے کیسز 28 مارچ 2015 تک کسی بھی فورم کے سامنے زیر التوا تھے، بڑھے ہوئے سود کا دعویٰ کرنے کے حقدار ہوں گے۔ اس تاریخ تک زیر التواءمقدمات کو قانون کے مطابق بڑھا ہوا معاوضہ اور سود دیا جانا چاہیے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande