ٹرانس جینڈر پرسنز (تحفظ حقوق) ترمیمی بل 2026 پارلیمنٹ سے منظور
نئی دہلی، 25 مارچ (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے بدھ کے روز ٹرانس جینڈر حقوق (ترمیمی) بل، 2026 کو منظور کیا، جس میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کو کنٹرول کرنے والے قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ یہ بل منگل کو لوک سبھا میں پہلے ہی منظور ہو چکا تھا۔ راجیہ سبھا نے اس
بل


نئی دہلی، 25 مارچ (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے بدھ کے روز ٹرانس جینڈر حقوق (ترمیمی) بل، 2026 کو منظور کیا، جس میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کو کنٹرول کرنے والے قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ یہ بل منگل کو لوک سبھا میں پہلے ہی منظور ہو چکا تھا۔ راجیہ سبھا نے اسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ بحث کے دوران ڈی ایم کے ایم پی تروچی سیوا نے بل کی مخالفت کی اور اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی جسے ایوان نے مسترد کر دیا۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس ایم پی رینوکا چودھری نے کہا کہ یہ بل ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے وجود کے بارے میں نہیں ہے بلکہ امتیازی سلوک کے بارے میں ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ جب آئین آج خواجہ سراو¿ں کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ سپریم کورٹ میں ہیں، پولیس میں ہیں، اور کھیلوں میں ملک کے لیے تمغے جیت رہے ہیں۔ تو پھر حکومت ان پر نئے قوانین کیوں مسلط کر رہی ہے؟

ڈی ایم کے کے ایم پی تروچی سیوا نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اسے اکثریت سے پاس کروابھی لیتی ہے تو آخرکار اسے سپریم کورٹ میں مسترد کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بل سے آئین کے آرٹیکل 14، 15، 19 اور 21 کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جس سے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے آزادی، وقار اور خود ارادیت کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ایم پی سواتی مالیوال نے خواجہ سراو¿ں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں کم سزا کا مسئلہ اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں خواتین کے لیے کم از کم سزا 10 سال ہے، وہیں خواجہ سراو¿ں کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا صرف 2 سال ہے، جو کہ ایک سنگین تفاوت ہے۔

مالیوال نے بل کی دفعات پر بھی سوال اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اسے ایک سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے ساتھ وسیع مشاورت کی جائے۔

ایس پی ایم پی جیا بچن نے کہا کہ بل سے پہلے دونوں ایوانوں میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی نمائندگی ضروری ہے۔

بجٹ اجلاس کے دوران بل لانا ایک غیر حساس قدم ہے۔

ہم اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بات کر رہے ہیں۔ یہ صرف مذہبی امتیاز نہیں ہے، بلکہ سماجی امتیاز ہے۔ کیا حکومت صرف آئندہ انتخابات کے لیے ووٹ بینک بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟ ایم پی فوزیہ خان نے کہا کہ بل میں تبدیلیوں سے خواجہ سراو¿ں کے حقوق کمزور ہوں گے، جو کہ تشویشناک ہے۔

وکست بھارت کا نعرہ سلیکٹیو انڈیا نہیں ہونا چاہیے۔

سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کے وزیر وریندر کمار نے راجیہ سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد کو طویل عرصے سے سماجی امتیاز اور تنہائی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس میں یقین رکھتی ہے اور ہر فرد کی آزادی اور بااختیار بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔

وزیر نے کہا کہ ترمیم شناخت کے عمل کو مزید واضح کرتی ہے اور امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے تعزیری دفعات کا اضافہ کرتی ہے۔ 2019 کے قانون نے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹرانس جینڈر افراد کی نئی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ضروری ہے کیونکہ معاشرے میں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اب بھی موجود ہے۔ حکومت کا مقصد ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا اور انہیں مساوی حقوق فراہم کرنا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande