
بھوپال، 25 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش میں سوشل میڈیا پر پیٹرول و ڈیزل کی قلت کی افواہ پھیلنے کے بعد ریاست کے کئی اضلاع میں پیٹرول پمپوں پر بھاری بھیڑ امڈ رہی ہے۔ بدھ کو بھی صبح سے کئی جگہوں پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
اندور، بھوپال، شاجاپور، کھرگون، نرمدا پورم، نرسنگھ پور، آگر مالوہ، دھار، کھنڈوا، نیمچ وغیرہ اضلاع میں بھی صبح سے کئی پیٹرول پمپوں پر بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم، انتظامیہ اور پیٹرول پمپ مالکان کا صاف کہنا ہے کہ کہیں بھی ایندھن کی کمی نہیں ہے۔ کافی ذخیرہ دستیاب ہے اور سپلائی بھی مسلسل جاری ہے۔ اس کے باوجود لوگ گھبراہٹ (پینک) میں ٹینک فل کروا رہے ہیں، جس سے کچھ جگہوں پر بدنظمی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
مدھیہ پردیش کے وزیر برائے خوراک، شہری سپلائی اور تحفظِ صارفین گووند سنگھ راجپوت نے بدھ کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل (24 مارچ) کو ریاست کے کچھ اضلاع میں پیٹرول پمپوں پر عوام کے درمیان افواہ کی صورتحال کی وجہ سے لائنیں لگنے اور صارفین کی جانب سے پیٹرول کی پینک خریداری کا معاملہ نوٹس میں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کے اسٹاک کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کافی مقدار میں دستیاب ہے۔ ڈپو سے بھی پیٹرول پمپوں کو مسلسل فراہمی کی جا رہی ہے۔ کسی بھی قسم کی افواہ سے ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ گھبراہٹ میں نہ تو خریداری کریں اور نہ ہی کسی قسم کا ذخیرہ اندوزی کریں۔
وزیر راجپوت کے مطابق، آئل کمپنیوں نے آگاہ کیا ہے کہ آج کی صورتحال میں ریاست میں پیٹرول و ڈیزل کا کافی اسٹاک موجود ہے۔ فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ ریاستی سطح سے کنٹرول روم اور انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نگرانی کر کے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ریاست کے کئی شہروں میں پیٹرول پمپوں پر بدھ کی صبح سے بھیڑ امڈ رہی ہے۔ شاجاپور میں کئی پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ رادھا، بس اسٹینڈ اور بیرچھا روڈ پر واقع ایچ پی پمپوں پر ایڈوانس ادائیگی نہ ہونے سے سپلائی بند ہے، جبکہ ٹنکی چوراہے کا بھارت پمپ بھی خالی ہو گیا ہے۔ فی الحال صرف ریلائنس پمپ پر محدود مقدار میں ایندھن مل رہا ہے۔
کھرگون میں مہیشور-بڑواہ روڈ پر واقع پیٹرول پمپ پر بدھ کی صبح 400-300 گاڑیوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ بھیڑ کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے ٹریفک متاثر ہوا۔ پمپ مالک نے بتایا کہ کافی ذخیرہ ہے اور سب کو ضرورت کے مطابق ایندھن دیا جا رہا ہے۔ ملازمین نے صورتحال سنبھال کر انتظام بنایا۔
رتلام میں کچھ پیٹرول پمپ بند ہیں، جبکہ کھلے پمپوں پر لوگوں کی بھاری بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹو وہیلر میں 200 روپے اور چار پہیہ گاڑیوں میں 1000 روپے تک ہی پیٹرول و ڈیزل دیا جا رہا ہے۔ پمپ مالکان کے مطابق اسٹاک کافی ہے، لیکن لوگ ضرورت سے زیادہ ایندھن بھروا رہے ہیں۔ بڑوانی کے سینڈھوا میں بھی افواہوں کے درمیان پیٹرول پمپوں پر صبح سے بھیڑ بڑھ گئی۔ پمپ مالکان اور انتظامیہ نے واضح کیا کہ ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور لوگوں سے غیر ضروری بھیڑ نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
آگر مالوہ ضلع کے پیپلون کلاں کے کبڑیا کھیڑی پیٹرول پمپ پر صبح سے گاڑیوں کی قطار لگی رہی۔ کافی اسٹاک کی معلومات کے باوجود لوگ ٹینک فل کروا رہے ہیں۔ کانڑ میں منگل کی رات بھیڑ کے درمیان پہلے پیٹرول بھروانے کو لے کر جھگڑا ہو گیا، جو مار پیٹ تک پہنچ گیا۔ بعد میں لوگوں نے صورتحال کو پرامن کرایا۔ اٹارسی ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع پیٹرول پمپ پر افواہوں کی وجہ سے بھاری بھیڑ امڈ پڑی۔ دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بھیڑ کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہوا۔ اگرچہ ملازمین نے صورتحال سنبھالی، لیکن دن بھر بھیڑ برقرار رہی۔
اجین میں بھی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ پیٹرول و ڈیزل کی کافی دستیابی ہے۔ کلکٹر روشن کمار سنگھ کے مطابق، سپلائی مسلسل جاری ہے اور آگے بھی کسی طرح کی کمی نہیں ہوگی۔ بھوپال میں پیٹرول و ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے اور تین ماہ تک کی فراہمی کا اسٹاک موجود ہے۔ اس کے باوجود ایئرپورٹ روڈ کے ایک پمپ پر 200 روپے تک پیٹرول دینے کا معاملہ سامنے آیا، جس کی شکایت بھی کی گئی ہے۔ کلکٹر کوشلیندر وکرم سنگھ نے لوگوں سے ضرورت کے مطابق ہی ایندھن لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ بھوپال میں کافی مقدار میں پیٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس دستیاب ہے۔
بھوپال کے فوڈ کنٹرولر چندربھان سنگھ جادون نے بتایا کہ شہر میں 58.79 لاکھ کلو لیٹر پیٹرول و ڈیزل کا اسٹاک ہے، جو ڈھائی سے تین ماہ تک کے لیے کافی ہے۔ مدھیہ پردیش پیٹرول پمپ اونر ایسوسی ایشن کے مطابق، تقریباً 5 فیصد پمپوں پر ایڈوانس رقم کے مسئلے کی وجہ سے عارضی کمی ہے۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کمی نہیں ہے۔ بھوپال کے بھوری میں واقع انڈین آئل، بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم کے ڈپو سے شہر کے 192 پمپوں کو روزانہ 12 لاکھ لیٹر ڈیزل اور 9 لاکھ لیٹر پیٹرول کی سپلائی کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن