
سیوان میں آدھی رات کو ہوئے انکاؤنٹر میں شاطر بدمعاش زخمی
سیوان، 25 مارچ (ہ س)۔ سیوان-پٹنہ مین روڈ پر منگل کی نصف شب کو سیوان ضلع کے بسنت پور تھانہ علاقہ کے لاہیجی گاؤں کے قریب پولیس اور جرائم پیشوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں دو شاطر بدمعاش شدید زخمی ہو گئے۔
زخمی بدمعاشوں کی شناخت 25 سالہ روہت کمار شرما ساکن صدر پور تھانہ برہڑیا تھانہ اور 19 سالہ روہت کمار کشواہا عرف ریشو ساکن چوکی حسن گاؤں کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے دونوں کو موقع پر ہی گرفتار کر کے اسی رات صدر اسپتال پہنچایا۔ ابتدائی علاج کے بعد انہیں نازک حالت کے پیش نظر پٹنہ کے پی ایم سی ایچ ریفر کر دیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ بسنت پور تھانہ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ موٹر سائیکل سوار مجرم کسی بڑی واردات کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ جیسے ہی دونوں بدمعاش جائے وقوعہ پر پہنچے تو پولیس کو دیکھ کر بھاگنے لگے۔
پیچھا کرنے پر تو بدمعاشوں نے پولیس ٹیم پر گولیاں چلا دیں اور تقریباً چار راؤنڈ فائرنگ کی۔ جواب میں پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس سے دونوں بدمعاشوں کے پیر میں چوٹیں لگیں اور وہ موقع پر ہی گر گئے۔
تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ روہت کمار شرما نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بسنت پور کے کھوڑی پاکڑ جوئیلرس لوٹ معاملہ اور ارون جوئیلرس لوٹ معاملہ میں شامل رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک بین ریاستی گینگ سے وابستہ ہے اور حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں لوٹ کی وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کا ساتھی رشو بھی ارون جوئیلرس لوٹ معاملہ میں ملوث تھا۔
ڈاکٹر آلوک کمار سنہا کے مطابق روہت شرما کی دونوں پیر میں گولی لگی تھی، جب کہ ریشو کی بائیں پیر کے گھٹنے کے نیچے سے گولی لگی ہے۔ دونوں کی حالت نازک ہے۔ یہ انکاؤنٹر اشارہ کرتا ہے کہ ضلع میں سرگرم لوٹ گروہوں کے خلاف پولیس کی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan