دہلی اسمبلی کوبم سے اڑانے کی پھر دھمکی،جانچ ایجنسیاں الرٹ پر
نئی دہلی، 25 مارچ (ہ س)۔ دہلی اسمبلی کو بم سے اڑانے کی لگا تار دوسرے دن دھمکی ملنے کے بعد پولیس اور جانچ ایجنسیاں الرٹ پر ہیں۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسمبلی کے اندر اور اردگرد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بم اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور دہلی
دہلی اسمبلی کوبم سے اڑانے کی پھر دھمکی،جانچ ایجنسیاں الرٹ پر


نئی دہلی، 25 مارچ (ہ س)۔

دہلی اسمبلی کو بم سے اڑانے کی لگا تار دوسرے دن دھمکی ملنے کے بعد پولیس اور جانچ ایجنسیاں الرٹ پر ہیں۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسمبلی کے اندر اور اردگرد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بم اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور دہلی پولیس کی کئی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق منگل کو ای میل کے ذریعے موصول ہونے والی دھمکی کے بعد سیکیورٹی ادارے پہلے سے ہی الرٹ تھے۔ بدھ کو دوسری دھمکی کے بعد اسمبلی کمپلیکس کے اندر اور اطراف کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بم اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور دہلی پولیس کی کئی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پورے کمپلیکس کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے، اور تمام مشکوک اشیاء پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ فی الحال کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ دھمکی بدھ کی صبح ای میل کے ذریعے دی گئی۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی اسمبلی کمپلیکس میں 16 آر ڈی ایکس بم نصب کیے گئے ہیں اور ان کا دوپہر 1:40 بجے کے قریب دھماکہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ای میل میں کچھ سیاسی رہنماو¿ں کے متنازعہ حوالہ جات بھی ہیں، جس سے تفتیشی ایجنسیوں کو اس زاویے سے بھی تفتیش کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔ پولیس اور تفتیشی ایجنسیاں پورے اسمبلی کمپلیکس کی تلاشی لے رہی ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ای میل بھیجنے والے کی شناخت کے لیے سائبر سیل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ملزم تک جلد سے جلد پہنچنے کے لیے ای میل کے ماخذ اور تکنیکی تفصیلات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ای میل بھیجنے والے نے اپنی شناخت ایک گروپ کے رکن کے طور پر کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود اس سازش کو انجام دینے کا منصوبہ بنایا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ صرف املاک کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور لوگوں سے انخلائ کی اپیل کی ہے۔ دہلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande