تہران کو واشنگٹن سے ملا پیغام، ٹرمپ سمجھوتے کے لیے تیار : ایرانی عہدیدار
تہران کو واشنگٹن سے ملا پیغام، ٹرمپ سمجھوتے کے لیے تیار : ایرانی عہدیدار واشنگٹن/تہران، 24 مارچ (ہ س)۔ گزشتہ ماہ 28 فروری سے چھڑی جنگ کے درمیان تہران کو ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے پیغام ملا ہے۔ یہ پیغام امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا ممکنہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ


تہران کو واشنگٹن سے ملا پیغام، ٹرمپ سمجھوتے کے لیے تیار : ایرانی عہدیدار

واشنگٹن/تہران، 24 مارچ (ہ س)۔ گزشتہ ماہ 28 فروری سے چھڑی جنگ کے درمیان تہران کو ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے پیغام ملا ہے۔ یہ پیغام امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا ممکنہ آغاز ہو سکتا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کو یہ معلومات دی۔ اس سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ممکن ہے۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی عہدیدار نے کہا، ’’ہمیں ثالثوں کے ذریعے امریکہ سے کچھ بامعنی پیغامات ملے ہیں۔ ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘ اس سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے سلسلے میں بہت اچھی اور بامعنی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے اس کے بعد صحافیوں سے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 15 مسائل پر اتفاق ہوا ہے۔ اس کے بعد ایرانی عہدیداروں نے کہا ہے کہ ’’وہ امن چاہتے ہیں۔‘‘ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے آخر میں ایران کو دی گئی دھمکی بھی واپس لے لی۔ انہوں نے کہا تھا کہ 48 گھنٹے کے اندر اگر ایران آبنائے ہرمز کو نہیں کھولتا تو اس کے بجلی گھروں پر حملہ کیا جائے گا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے شروع میں اس بات سے انکار کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بات چیت چل رہی ہے۔ اب ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات سے یہ امید جاگی ہے کہ فوجی تصادم اب ختم ہونے کے قریب ہو سکتا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس کے باوجود تاریخی طور پر وہ ایک دوسرے سے بالواسطہ طور پر ہی بات چیت کرتے رہے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ ایران کی ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، لیکن وہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نہیں ہیں۔ انہوں نے اس شخص کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا ہے۔ اس سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر چھوڑ دے۔ ایران طویل عرصے سے ان کی اس تجویز کو مسترد کرتا رہا ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل امریکہ-ایران کے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کا حصہ ہو گا۔ امریکہ-اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے۔ اس دوران امریکی حکام نے بتایا کہ انٹیلی جنس جائزے سے پتہ چلا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کم از کم ایک درجن ایرانی بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس نے 9,000 سے زیادہ ایرانی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ ان میں 140 سے زیادہ ایرانی بحری جہاز شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande