
پینٹاگون میں اخبارات اور چینلز کے دفاتر بند ہوں گے، امریکی وزارتِ دفاع کا فیصلہ
واشنگٹن، 24 مارچ (ہ س)۔ امریکی وزارتِ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹاگون میں واقع اخبارات اور چینلز (میڈیا) کے دفاتر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسے پینٹاگون پریس آپریشنز (پی پی او) کے نام سے جانا جاتا رہا ہے۔ وزارتِ دفاع نے پینٹاگون کی عمارت کے اندر واقع میڈیا دفاتر کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے لیے نئی کریڈینشل پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون نے یہ فیصلہ ایک فیڈرل جج کے ذریعے ایک مقدمے میں ’دی نیویارک ٹائمز‘ کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد لیا ہے۔ اس مقدمے میں رپورٹرز کی عمارت میں آمد و رفت پر لگائی گئی پابندیوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، وزارتِ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے بتایا کہ پینٹاگون کا ایک علاقہ جسے ’’کوریسپونڈنٹس کوریڈور‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کا استعمال رپورٹرز دہائیوں سے امریکی فوج کی خبریں کور کرنے کے لیے کرتے آ رہے ہیں، اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی بعد میں عمارت کے باہر واقع ایک اینکس (اضافی عمارت) سے کام کر سکیں گے۔ یہ عمارت تیار ہونے پر دستیاب ہوگی۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔
’دی نیویارک ٹائمز‘ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جج کے حکم کی خلاف ورزی اور غیر آئینی ہے۔ ٹائمز کے ترجمان چارلی اسٹیڈ لینڈر نے کہا، ’’ہم دوبارہ عدالت جائیں گے۔‘‘ پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن نے اس پالیسی کو ’’گزشتہ ہفتے آنے والے فیصلے کی روح کی صریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صحافیوں کو اب بھی پریس کانفرنسوں اور انٹرویوز کے لیے پینٹاگون کے اندر جانے کی اجازت ہوگی، لیکن اب انہیں ایسکورٹ (سیکورٹی گھیرے) کے ساتھ جانا پڑ سکتا ہے۔
’دی نیویارک ٹائمز‘ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور وینزویلا میں حال ہی میں ہوئے امریکی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ’’ایسے نازک وقت میں ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ پینٹاگون پریس کی اس ضروری آزادی پر پابندی کیوں لگا رہا ہے، جو تمام امریکیوں کو معلومات فراہم کرنے میں مدد کرتی ہے؟‘‘
یہ نئی پالیسی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران پریس کی رسائی کو لے کر چل رہے تنازعات کی تازہ کڑی ہے۔ اس انتظامیہ نے روایتی میڈیا پر پابندیاں لگائی ہیں، جبکہ قدامت پسند میڈیا اداروں کو فروغ دیا ہے۔ گزشتہ برس سی بی ایس نیوز، اے بی سی نیوز، این بی سی نیوز، سی این این اور فوکس نیوز وغیرہ کے رپورٹرز نے اپنے پینٹاگون پاس واپس کر دیے تھے۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ فوج نے صحافیوں کے لیے کئی نئی پابندیوں پر دستخط کرنا ضروری قرار دے دیا تھا۔ اس پالیسی میں یہ کہا گیا تھا کہ جو رپورٹر فوج کے حکام سے خفیہ یا حساس معلومات مانگتے ہیں، انہیں سیکورٹی کے لیے خطرہ سمجھا جا سکتا ہے اور انہیں عمارت میں آنے سے روکا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن