
نئی دہلی، 24 مارچ (ہ س)۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی ) کی حمایت یافتہ راج مارگ انفرا انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر آئی آئی ٹی)کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں پریمیم انٹری کر کے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کوخوش کر دیا۔ کمپنی نے آئی پی او کے تحت ایشو پرائس 100 روپے فی یونٹ مقرر کی تھی۔ آج بی ایس ای پر اس کی لسٹنگ آٹھ فیصد پریمیم کے ساتھ 108 روپے کی سطح پر اور این ایس ای پر سات فیصد پریمیم کے ساتھ 107 روپے کی سطح پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد فروخت کے دباو¿ کی وجہ سے یہ 105.30 روپے تک گر گیا۔ حالانکہ اس کے بعد خریداری شروع ہو جانے پر اس کی پوزیشن میں بہتری آئی۔ صبح 11 بجے تک، کمپنی کے حصص بی ایس ای پر106.38 روپے اور این ایس ای پر 106.33 روپے پر ٹریڈ کر رہے تھے۔ اس طرح اب تک کی ٹریڈنگ کے بعد کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کار 6.30 فیصد سے زائد کے منافع میں تھے ۔
راج مارگ انفرا انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر آئی آئی ٹی) کا 6,000 کروڑ روپے کا آئی پی او 11 اور 13 مارچ کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست رسپانس ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر اسے 13.74 گنا سبسکرپشن ملا ۔ ان میں سے، اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی ) کے لیے مختص حصہ 19.14 گنا ( ایکس اینکر) سبسکرائب کیا گیا، جب کہ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں ( این آئی آئی ) کے لیے مختص حصہ 7.26 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت، 100 روپے فی یونٹ کی قیمت پر 60 کروڑ نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ راج مارگ انفرا انویسٹمنٹ ٹرسٹ کا ارادہ ملک میں جاری ٹول روڈ پروجیکٹس کی ملکیت کو اپنے پاس رکھنااور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سرمایہ کاروں میں تقسیم کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر، ٹرسٹ کے پاس جھارکھنڈ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کرناٹک میں واقع پانچ سڑک پروجیکٹ ہوں گے ، جہاں سے فی الحال ٹول وصول کیا جا رہا ہے ۔ ان پروجیکٹوں کی کل لمبائی تقریباً 260 کلومیٹر ہے، جس میں چنئی بائی پاس، چنئی سے تاڈا، اور نیلمنگلا سے ٹمکور جیسے بڑے سڑک کے راستے شامل ہیں۔ ٹرسٹ آنے والے برسوں میں مزید توسیع کا ارادہ رکھتا ہے۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی ) نے مبینہ طور پر اگلے تین سے پانچ برسوں میں ٹرسٹ میں تقریباً 1,500 کلومیٹر اضافی سڑکیں شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد