
نئی دہلی، 24 مارچ (ہِ س)۔ ایروپلین برانڈ نیم سے باسمتی چاول کا ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی امیر چند جگدیش کمار ایکسپورٹس کا 440 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے کھل گیا۔ اس آئی پی او میں سرمایہ کار 27 مارچ تک بولی لگا سکیں گے۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 30 مارچ کو شیئرز کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ ایک اپریل کو الاٹ کیے گئے شیئر ڈی میٹ اکاؤنٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے شیئر دو اپریل کو بی ایس ای اور این ایس ای پر لسٹ ہو سکتے ہیں۔ دوپہر 12 بجے تک اس آئی پی او کے لیے 13,084 درخواستوں کے ذریعے 37 فیصد سبسکرپشن آ چکا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 201 روپے سے لے کر 212 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 70 شیئر کا ہے۔ اس آئی پی او میں ریٹیل انویسٹرز کم سے کم ایک لاٹ یعنی 70 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,840 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح ریٹیل انویسٹرز 1,92,920 روپے کی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس میں 910 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے کل 2,07,54,716 نئے شیئر جاری ہو رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 فیصد حصہ ریزرو کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیل انویسٹرز کے لیے کم سے کم 35 فیصد حصہ اور نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے کم سے کم 15 فیصد حصہ ریزرو ہے۔ اس ایشو کے لیے ایم کے گلوبل فنانشل سروسز لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ منیجر بنایا گیا ہے۔ وہیں کیفن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار بنایا گیا ہے۔
کمپنی کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 23-2022 میں کمپنی کو 17.50 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 30.41 کروڑ روپے اور 25-2024 میں بڑھ کر 60.82 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کو 48.65 کروڑ روپے کا خالص منافع ہو چکا ہے۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 23-2022 میں اسے 1,317.86 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 1,551.42 کروڑ روپے اور مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 2,004.03 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کو 1,024.30 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
اس مدت میں کمپنی کے قرض میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 23-2022 کے اختتام پر کمپنی پر 667.53 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 777.62 کروڑ روپے اور مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 784.06 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 کے دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ 739.74 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
اس دوران کمپنی کے نیٹ ورتھ میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 23-2022 میں یہ 280.84 کروڑ روپے تھا، جو 2023-24 میں بڑھ کر 311.48 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا نیٹ ورتھ 379.18 کروڑ روپے ہو گیا۔ جبکہ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک یہ 440.89 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (آمدنی قبل از سود، ٹیکس، ڈیپریسی ایشن اور ایمورٹائزیشن) 23-2022 میں 79.69 کروڑ روپے تھا، جو 24-2023 میں بڑھ کر 109.66 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 163.65 کروڑ روپے ہو گیا۔ جبکہ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک یہ 105.76 کروڑ روپے تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد