
بنگلہ دیش میں سابق فوجی افسر مسعود الدین چودھری گرفتار
ڈھاکہ، 24 مارچ (ہ س)۔ بنگلہ دیش میں سابق فوجی افسر اور فینی-3 کے سابق رکن پارلیمنٹ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) مسعود الدین چودھری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری آج صبح باری دھارا علاقے سے پولیس نے کی۔ وہ فوجی حمایت یافتہ نگراں حکومت کے دوران ایک اہم شخصیت تھے۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹیو برانچ (ڈی بی) کے سربراہ شفیق الاسلام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
’دی ڈیلی اسٹار‘ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اسلام نے بتایا کہ ان پر کم از کم چار مقدمات میں الزامات تھے۔ انہیں باری دھارا ڈی او ایچ ایس میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ 11 جنوری 2007 کو جب پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی، تب مسعود ساور میں 9 انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) تھے۔
انہیں ’سنگین جرائم اور کرپشن پر قومی رابطہ کمیٹی‘ کا چیف کواڈینیٹر بنایا گیا تھا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد، 02 جون 2008 کو انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور ’نیشنل ڈیفنس کالج‘ میں تعینات کیا گیا۔ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں انہیں وزارتِ خارجہ بھیج دیا گیا اور 08 جون 2008 کو کینبرا میں واقع بنگلہ دیش ہائی کمیشن میں تعینات کیا گیا۔ انہوں نے سیاست کا آغاز ’جاتیہ پارٹی‘ سے کیا۔
ان کے خلاف قتل کے ایک کیس میں وارنٹ تھا اور کرپشن و غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزامات بھی ہیں۔ حال ہی میں سی آئی ڈی نے ان کے خلاف تقریباً 100 کروڑ ٹکا کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی درج کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن