
ممبئی ، 23 مارچ (ہ س) ۔ ستارا ضلع پریشد کے صدر کے انتخاب کے تنازع نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، اس ضمن میں مہایوتی اتحاد کے اندر کشیدگی بڑھ گئی ہے اور شندے گروپ کے وزراء نے استعفے دینے کی دھمکی دے دی ہے۔
یہ معاملہ 23 مارچ 2026 کو قانون ساز عمارت میں گونجا، جہاں شندے گروپ کے اراکین نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود جوڑ توڑ کی سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کیا گیا۔
شندے گروپ کے وزیر شمبھوراج دیسائی نے پولیس اور انتظامیہ پر جانبداری کا الزام لگایا، جبکہ شندے گروپ اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) کے اراکین نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قانون ساز عمارت کی سیڑھیوں پر احتجاج کیا۔
اس دوران نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ بھی ہوئی، جس میں اراکین نے کہا کہ ان کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سخت فیصلے لیے جائیں گے، حتیٰ کہ بعض وزراء نے استعفے دینے کا عندیہ بھی دیا۔قانون ساز کونسل میں بحث کے دوران نائب چیئرپرسن نیلم گورے نے ستارا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تشار دوشی کو معطل کرنے کی ہدایت دی، جبکہ چیئرمین رام شندے نے بی جے پی رہنما جے کمار گورے کا مؤقف بھی سنا۔ تاہم دونوں جانب سے سخت رویہ اپنائے جانے کے باعث ایوان کی کارروائی کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔اسی دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے دفتر میں بی جے پی اراکین کی میٹنگ ہوئی، جہاں پارٹی نے واضح کیا کہ ستارا انتخاب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔درحقیقت یہ تنازع ستارا ضلع پریشد میں اقتدار کے قیام کو لے کر ہے، جہاں بی جے پی کے 28 ارکان منتخب ہوئے تھے، لیکن شندے گروپ اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) کے پانچ ارکان کو اپنے ساتھ ملا کر بی جے پی نے صدر اور نائب صدر کے عہدے حاصل کر لیے، جس پر اتحادی جماعتوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے