
نئی دہلی، 23 مارچ (ہ س)۔
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور سابق رکن پارلیمنٹ گوتم گمبھیر نے دہلی ہائی کورٹ سے اپنے ذاتی حقوق کے تحفظ کی درخواست واپس لے لی ہے۔ گوتم گمبھیر کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ جئے اننت دیہادرائی نے جسٹس جیوتی سنگھ کی بنچ کے سامنے عرضی واپس لینے کی اجازت مانگی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
اس سے قبل 20 مارچ کو ہائی کورٹ نے گوتم گمبھیر کو اپنی درخواست میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سماعت کے دوران گوتم گمبھیر کی نمائندگی کرنے والے وکیل جئے اننت دیہادرائی نے کہا کہ گمبھیر کے بارے میں گمراہ کن مواد ان کی اجازت کے بغیر پھیلایا جا رہا ہے۔ کبھی یہ دعویٰ کیا گیا کہ گمبھیر نے استعفیٰ دے دیا ہے تو کبھی ایک ویڈیو اپ لوڈ کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے کسی کھلاڑی پر حملہ کیا ہے۔ گمبھیر کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ بغیر اجازت اے آئی اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی شناخت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ گمبھیر نے اپنے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور 2.5 کروڑ (تقریباً 1.5 ملین امریکی ڈالر) کا معاوضہ طلب کیا۔
درخواست میں گوتم گمبھیر نے کئی سوشل میڈیا اکاو¿نٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ای کامرس ویب سائٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے نام، آواز اور شخصیت سے متعلق مواد کا بغیر اجازت کے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ متعدد ویڈیوز میں ان کے استعفیٰ کے جعلی اعلانات اور سینئر کرکٹرز کے بارے میں من گھڑت تبصرے شامل ہیں۔ اس کی شناخت کا تجارتی استحصال کیا جا رہا تھا۔ درخواست 16 مدعا علیہان کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ