
ممبئی ، 23 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کے ناسک عصمت دری معاملے میں مرکزی ملزم اشوک کھرات کے خلاف تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق وہ نقلی سانپ اور شیر کے ذریعے عقیدت مندوں کو متاثر کر کے ان سے پیسے بٹورتا اور خواتین کا استحصال کرتا تھا۔
23 مارچ 2026 کو تحقیقاتی افسران نے بتایا کہ کھرات نے ہپناسس اور مبینہ عملیات کے نام پر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا ایک منظم طریقہ اختیار کیا تھا۔ وہ بازار میں سستے داموں دستیاب جنگلی اشیاء کو چمکا کر انہیں قیمتی مذہبی پتھر ظاہر کرتا اور 100 روپے کی چیز کو 10 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک فروخت کرتا تھا۔ اس حوالے سے اس کے خلاف متعدد شکایات درج کی گئی ہیں، جس سے ایک بڑے فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کھرات عقیدت مندوں کو متاثر کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا تھا، جن میں 20 فٹ لمبے سانپ کا ڈرامائی مظاہرہ بھی شامل تھا۔ بتایا گیا کہ یہ مظاہرہ ہر شام میرگاؤں میں اس کے “شری شیونیکا سنستھان” میں کیا جاتا تھا، جہاں وہ اندھیرے کے وقت لوگوں کو جمع کر کے عملیات کرتا اور ایک سانپ کو اپنے پاس بلاتا دکھاتا تھا۔
حقیقت میں یہ سانپ نقلی تھا، جسے کاغذی گودے سے تیار کیا گیا تھا اور اس میں ڈرون سسٹم نصب تھا، جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے حرکت دی جاتی تھی۔ اسی طرح وہ ایک نقلی کاغذی شیر کے ذریعے بھی لوگوں کو متاثر کرتا تھا، جس سے کئی افراد اس کے دھوکے کا شکار ہو جاتے تھے۔
اس کیس میں ایک نابالغ لڑکی نے بھی کھرات کے خلاف عصمت دری کی شکایت درج کرائی ہے۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق اسے ایک کمرے میں بلا کر اس سے دروازہ بند کروایا گیا، پھر اسے ایک تانبے کے برتن میں پانی دیا گیا جس کا ذائقہ نمکین اور کڑوا تھا۔ پانی پینے کے بعد اسے بے چینی محسوس ہوئی، تاہم ملزم نے اسے مزید پانی پینے پر مجبور کیا۔
لڑکی نے بتایا کہ اس کے بعد کھرات نے اس کے سر پر پانی کا گلاس رکھ کر اسے کھڑا کیا اور منتر پڑھنے کو کہا، اسی دوران کمرے کی لائٹ بند کر دی گئی اور ملزم نے خود کو “کرشن کا اوتار” بتاتے ہوئے اس کے ساتھ زبردستی کی۔
پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران اشوک کھرات نے ان الزامات کو قبول کیا ہے۔ اس معاملے کی گہرائی سے جانچ ناسک پولیس کے ساتھ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے