
ریاض،22مارچ(ہ س)۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے مملکت میں مقیم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کے ملٹری اتاشی، اسسٹنٹ ملٹری اتاشی اور مشن کے عملے کے تین دیگر ارکان کو 'ناپسندیدہ شخصیات' قرار دیتے ہوئے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کے نو مارچ سنہ 2026ءکے اس بیان کی روشنی میں جس میں واضح کیا گیا تھا کہ مسلسل ایرانی جارحیت کا مطلب مزید کشیدگی ہے اور اس کے موجودہ و مستقبل کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، مملکت نے ایرانی ملٹری اتاشی اور ان کے معاونین سمیت پانچ افراد کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سعودی عرب کی سرزمین سے نکل جائیں۔
سعودی عرب کی جانب سے ملٹری اتاشی اور ان کے عملے کو بیدخل کرنے کا یہ قدم ایرانی جارحیت کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری، سویلین تنصیبات، شہریوں، معاشی مفادات اور سفارتی مراکز کو مسلسل نشانہ بنانا تمام متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز، حسن ہمسائیگی کے اصولوں، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، بیجنگ معاہدے اور امن کونسل کی قرارداد نمبر 2817 (سنہ 2026ئ) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات اسلامی بھائی چارے اور ان اسلامی اقدار کے بھی منافی ہیں جن کا ایرانی جانب سے مسلسل تذکرہ کیا جاتا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔اسی اثناءمیں مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے ہی ایران کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے اس بیان سے کچھ ہی دیر قبل مشرقی ریجن کی جانب آنے والے 7 ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے خلاف تہران کی جارحیت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے صرف 15 فیصد میزائلوں نے اسرائیل کو نشانہ بنایا جبکہ 80 فیصد سے زائد حملے خلیجی ممالک پر کیے گئے۔ العربیہ نیٹ ورک کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک پر اب تک تقریباً 4911 میزائل اور ڈرونز داغے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب صرف 805 حملے کیے گئے۔اسی سیاق میں سعودی وزارت خارجہ نے مملکت، خلیجی ممالک اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف ایران کی کھلی جارحیت کی ایک بار پھر شدید مذمت کی ہے۔ مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کی بنیاد پر اپنی خودمختاری کے دفاع، امن کی بحالی اور اپنی سرزمین، فضائی حدود، شہریوں، مقیم افراد اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan