
واشنگٹن،22مارچ(ہ س)۔نئے ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی جسمانی حالت اور ان کے اصل کردار کے بارے میں سوالات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب انہوں نے عیدِ نوروز کے موقع پر عوامی سطح پر منظر عام پر آنے کے بجائے محض ایک تحریری پیغام پر اکتفا کیا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق ’سی آئی اے‘ سمیت عالمی انٹیلی جنس ادارے اس بات کی کڑی نگرانی کر رہے تھے کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نئے سال کے موقع پر خطاب کریں گے یا نہیں۔ تاہم اس اہم موقع کا کسی بھی بصری ظہور یا پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے بغیر گزر جانا ان کی صحت اور جنگی امور چلانے کی اصل پوزیشن کے بارے میں شکوک کو گہرا کر گیا ہے۔
یہ پراسراریت ان رپورٹس کے سائے میں بڑھی ہے جن کے مطابق اسرائیل نے ان کے والد کی ہلاکت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے اہداف کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہوا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے میں زخمی اور شاید معذور ہو چکے ہیں جس میں ان کے والد مارے گئے تھے۔تین ہفتوں سے منظرِ عام سے غائب ہونے کے باوجود امریکی اور اسرائیلی تخمینوں کے مطابق وہ ابھی زندہ ہیں۔ یہ اندازے ان ایرانی حکام کی کوششوں پر مبنی ہیں جو ان سے براہِ راست ملاقاتیں طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، چاہے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ اب تک ناکام رہی ہوں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے گرد گھومتا یہ ابہام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی جانے والی انٹیلی جنس بریفنگز کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے، جہاں قومی سلامتی کی ٹیم یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ تہران میں اقتدار کے معاملات اصل میں کون چلا رہا ہے۔ ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ہی احکامات جاری کر رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمارا نہیں خیال کہ ایرانی کسی مردہ شخص کو اپنا لیڈر منتخب کریں گے، لیکن اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ وہ فعلی طور پر قیادت کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد کے بعد نو مارچ سنہ 2026ءکو رہبرِ اعلیٰ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تب سے اب تک ان کا ظہور صرف ’ٹیلی گرام‘ پر ایک تحریری بیان تک محدود رہا ہے، جس نے ان کے شدید زخمی ہونے کی افواہوں کو تقویت دی ہے۔ قیادت کے اس خلا میں علی لاریجانی کا نام عارضی طور پر سامنے آیا تھا، لیکن گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی آپریشن میں ان کی ہلاکت نے قیادت کے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب اس وقت اقتدار کے خلا کو پ±ر کر رہی ہے، جسے مقتول رہبر علی خامنہ ای کے ساتھ قریبی تعلقات اور ریاست کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی ڈھانچے میں وسیع اثر و رسوخ حاصل ہے۔ ایک عرب عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب اب عملی طور پر ایران پر قابض ہے اور اس کے ارکان مرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔دوسری جانب صدر مسعود بزشکیان کا سکیورٹی خطرات کے باوجود نوروز پر ویڈیو پیغام جاری کرنا اور مجتبیٰ خامنہ ای کا غائب رہنا مزید سوالات پیدا کر رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے خفیہ اجلاس میں سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور ڈی آئی اے کے ڈائریکٹر جیمز ایڈمز نے یہ تشخیص پیش کی ہے کہ ایرانی نظام قیادت اور کنٹرول کے گہرے بحران کا شکار ہے، اگرچہ اس کے فوری خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔اسرائیل کا موقف ہے کہ ایرانی نظام کو کمزور کرنا جنگ کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ بیرونی دباو¿ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ روایتی قیادت کا خاتمہ مجتبیٰ خامنہ ای جیسی زیادہ سخت گیر شخصیات کے ابھرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو منظرنامے کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan