ایران کے میزائل حملوں سے اسرائیلی وزیراعظم خوفزدہ ،یورپی ممالک سے جنگ میں شامل ہونے کی اپیل
تل ابیب،22مارچ(ہ س)۔ایک طرف جہاں یورپی ممالک ایران اور دوسری جانب اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں کودنے سے گریز کر رہے ہیں اور یورپی یونین مسلسل تنازعے ختم کرنے کی اپیل کر رہی ہے، وہیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھونے یورپی ممالک پر زور
ایران کے میزائل حملوں سے اسرائیلی وزیراعظم خوفزدہ ،یورپی ممالک سے جنگ میں شامل ہونے کی اپیل


تل ابیب،22مارچ(ہ س)۔ایک طرف جہاں یورپی ممالک ایران اور دوسری جانب اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں کودنے سے گریز کر رہے ہیں اور یورپی یونین مسلسل تنازعے ختم کرنے کی اپیل کر رہی ہے، وہیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھونے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔جنوبی اسرائیل کے علاقے عراد کے دورے کے موقع پر جہاں علی الصبح ایک ایرانی میزائل گرا تھا نیتن یاھونے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کر دینا اور یہ ثابت ہو جانا کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یورپ کے قلب کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ اب تمام اتحادیوں کے لیے جنگ میں مکمل طور پر شامل ہونے کا وقت آ گیا ہے۔نیتن یاھونے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیلی فضائی حملے اور ٹارگٹ کلنگ ایسے حالات پیدا کر دیں گے جن سے ایرانی نظام کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل اس وقت اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے عراد میں میزائل گرنے سے زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا جواز پیش کرتے ہوئے وضاحت کی کہ میزائل گرنے سے 10 منٹ قبل خطرے کے سائرن بجا دیے گئے تھے، لیکن کچھ لوگ پناہ گاہوں میں نہیں گئے۔اس حوالے سے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی دشمن ایسے میزائل داغ رہا ہے جن کی مار 4 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے اور وہ یورپ کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایرانی دشمن کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے جو اسے تباہ کرنا چاہتا ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانوی وزیر ہاوسنگ اسٹیو ریڈ نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی رپورٹ یا تخمینہ موجود نہیں جو ان دعووں کی تصدیق کرے کہ ایران یورپ کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے یا وہ اس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسے کسی بھی جائزے سے واقف نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ وہ یورپ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، چہ جائیکہ ان کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہو۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یورپی پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے گذشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو لندن، پیرس یا برلن تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ شام ایران کو آبنائے ہرمز بحری ٹریفک کے لیے کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی اور دھمکی دی تھی کہ بصورتِ دیگر ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب تہران نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے کے اہم ترین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔ ایرانی وزارت دفاع نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فوج دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک اپنی لڑائی پوری شدت سے جاری رکھے گی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande