دیمونا میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں 150 افراد زخمی
تل ابیب،22مارچ(ہ س)۔اسرائیلی فوج نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا پر ایرانی میزائل حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی ایمبولینس سروس کے بیان کے مطابق 51 افراد زخمی ہوئے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صحرائے نقب میں واقع اس شہر م
دیمونا میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں 150 افراد زخمی


تل ابیب،22مارچ(ہ س)۔اسرائیلی فوج نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا پر ایرانی میزائل حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی ایمبولینس سروس کے بیان کے مطابق 51 افراد زخمی ہوئے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صحرائے نقب میں واقع اس شہر میں ایک عمارت پر براہ راست میزائل لگا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں فضا سے تیزی سے گرنے والا ایک دھماکہ خیز جسم دکھایا گیا ہے، جس کے ٹکرانے سے آگ کا ایک بڑا گولہ بلند ہوا۔دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن نے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی فورسز نے نطنز کی ایٹمی تنصیب پر اسرائیلی حملے کے جواب میں اسرائیل کی دیمونا ایٹمی تنصیب پر میزائل حملہ کیا ہے۔ دیمونا جنوبی اسرائیل کے صحرائے نقب میں واقع ہے جہاں ایک اہم ایٹمی پلانٹ موجود ہے۔ اسرائیل اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے خاموشی کی پالیسی پر گامزن ہے اور سرکاری طور پر اس کا موقف ہے کہ دیمونا ری ایکٹر صرف تحقیقی مقاصد کے لیے ہے، تاہم وہ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کی نہ تو تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید کرتا ہے۔اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شام ایک بار پھر ایران کی جانب سے گولہ باری کا سراغ لگانے اور میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے (انٹرسیپٹ) کے عمل کے آغاز کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی سرزمین سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کام کر رہا ہے۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے وسطی ایران کی فضائی حدود میں ایک اسرائیلی ایف-16 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ سپاہ نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج کا یہ دشمن طیارہ علی الصبح 3 بجکر 45 منٹ پر وسطی ایران میں حملے کا شکار ہوا۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ ایران میں آپریشنل سرگرمی کے دوران ایک اسرائیلی طیارے کی طرف زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل داغا گیا تھا، تاہم طیارے کی قسم نہیں بتائی گئی۔ اسرائیلی موقف کے مطابق طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایرانی اور اسرائیلی بیانات ایک ہی واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ایرانی میڈیا نے آسمان میں دھوئیں کے بادلوں کی تصویر نشر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور طیارہ بھی نشانہ بنا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اسرائیل کا تھا یا امریکہ کا۔ یہ رپورٹ ان خبروں کے چند دن بعد آئی ہے جس میں پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک امریکی ایف-35 طیارہ وسطی ایران میں شدید حملے کا شکار ہوا ہے۔ امریکی نیٹ ورک سی این این نے بھی جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایک امریکی ایف-35 طیارے نے مشرق وسطیٰ کے ایک فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے، جس کے بارے میں گمان ہے کہ وہ ایرانی فائرنگ کا شکار ہوا تھا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آج کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ آنے والے دنوں میں ایران پر اپنے حملوں میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ تل ابیب میں فوجی ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ فوجی حکام سے مشاورت کے بعد کاٹز نے کہا کہ ان ضربات میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران میں اقتدار کے ڈھانچے کے خلاف اپنی مہم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ اس کے رہنماو¿ں کے سر قلم کیے جائیں اور تزویراتی صلاحیتوں کو تباہ کیا جائے یہاں تک کہ اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کے لیے تمام سکیورٹی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔ کاٹز نے ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیلی اور امریکی فوج کی جانب سے ایرانی نظام اور اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں کی شدت میں اضافہ کیا جائے گا۔ادھر اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران میں ایک ایسی یونیورسٹی کی عمارت کو نشانہ بنایا ہے جو اس کے بقول ایٹمی ہتھیاروں کے اجزائ سے متعلق تزویراتی تحقیق و ترقی کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ تہران میں حالیہ فضائی کارروائیوں کے دوران فضائیہ نے ایرانی بیلسٹک میزائل سسٹم اور عسکری صنعتوں سے وابستہ ایک اور اہم تحقیقی مقام کو تباہ کر دیا ہے۔واضح رہے کہ تہران کی مالک اشتر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی وزارت دفاع کے ماتحت ہے اور ایٹمی و میزائل پروگرام میں دہائیوں پر محیط کردار کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ رات تہران میں کی گئی وسیع پیمانے کی غارت گری میں پاسداران انقلاب کے بیلسٹک میزائل تیار کرنے والے درجنوں اہداف، ایندھن کے گوداموں اور اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ ایرانی نظام کی میزائل سازی کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande