
تہران،22مارچ(ہ س)۔ایران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو کر ایک نئے مرحلے میں پہنچ گئی ہے، جبکہ میدانی سطح پر شدید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل رضا طلائی نیک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں بغیر کسی وقفے کے پوری قوت اور شدت کے ساتھ جنگ جاری رکھے گا۔ میجر جنرل طلائی نیک نے مزید کہا کہ اگر مقصد ایک ترقی یافتہ زندگی کا حصول ہے تو یہ سکیورٹی اور دفاع کے بغیر ممکن نہیں، انہوں نے مسلسل لڑائی کے لیے مستقل تیاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو ایران بھی ویسا ہی بھرپور جواب دے گا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے 48 گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے یا ایران کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کا کہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اتوار کے روز مقامی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی شہر خمین کے صحرائی علاقوں میں صبح کے اوقات سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہاں فوجی تنصیبات یا میزائلوں کی طویل سرنگیں موجود ہیں۔ رپورٹ میں تہران میں ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں بسیج کے رکن اور ایک بیس کمانڈر محمد تقی عباسی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ادھر اسٹریٹجک بندرگاہ بندر عباس، شیراز اور یزد میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کے مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر نے جنوبی ساحلی علاقوں اور جزیرہ ہرمز کے قریب ایک معاندانہ ایف 15 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کارروائی فضائی دفاعی نظام کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے کی گئی۔اسی دوران نیٹ بلاکس ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اپنے 23 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جو کہ ایران کی تاریخ میں اب تک ریکارڈ کی جانے والی طویل ترین ڈیجیٹل بندش ہے۔
اس کے مقابلے میں اسرائیلی فوج نے اتوار کو ایلات کی جانب میزائل داغے جانے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران اسرائیل پر تقریباً 400 میزائل داغ چکا ہے۔ فوج کے ترجمان ناداو شوشانی نے مزید کہا کہ اب تک ایران کے 92 فیصد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔یہ میدانی تبدیلیاں اس وقت سامنے آئیں جب اتوار کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر تہران نے 48 گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا تو امریکہ ایرانی پاور پلانٹس کو مٹا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے کے لیے ٹھیک 48 گھنٹے دے رہے ہیں ورنہ اسے حملوں کے نئے سلسلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سب سے بڑے پاور پلانٹ سے آغاز کرتے ہوئے مختلف تنصیبات کو تباہ کر دے گا۔جواب میں ایرانی فوج نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکی صدر نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں پوری کیں تو وہ بھی توانائی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس (ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو نشانہ بنائیں گے۔ خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق فوج کی آپریشنل کمانڈ ’خاتم الانبیاءہیڈکوارٹر‘ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کے تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکہ کی توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan