انجلی دامانیا کی ریاستی خواتین کمیشن کی تقرری پر سخت تنقید
ممبئی ، 21 مارچ (ہ س) ۔ ریاستی خواتین کمیشن کی سربراہی کے حوالے سے سماجی کارکن انجلی دامانیا نے زور دیا ہے کہ اس عہدے پر سیاسی افراد کی تقرری بند کر کے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسران یا عدالتی پس منظر رکھنے والے ججوں کو ذمہ داری دی جائے، کیونکہ ان کے
Politics Maha Damania Criticism Women Panel


ممبئی ، 21 مارچ (ہ س) ۔ ریاستی خواتین کمیشن کی سربراہی کے حوالے سے سماجی کارکن انجلی دامانیا نے زور دیا ہے کہ اس عہدے پر سیاسی افراد کی تقرری بند کر کے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسران یا عدالتی پس منظر رکھنے والے ججوں کو ذمہ داری دی جائے، کیونکہ ان کے مطابق یہی طریقہ خواتین کو مؤثر انصاف دلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے یہ مؤقف اس وقت اختیار کیا جب خود ساختہ بابا کیپٹن اشوک کھرات کے معاملے پر تنازعہ سامنے آیا اور اس کے بعد روپالی چاکنکر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ سنیترا پوار کو سونپا۔ دامانیا کے مطابق استعفیٰ کے دوران چاکنکر کا انداز ایک سنجیدہ سرکاری اہلکار کے بجائے نمائشی معلوم ہوا، جس پر انہوں نے تنقید کی۔دامانیا نے کہا کہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھی روپالی چاکنکر نے کسی قسم کی شرمندگی یا احساس ذمہ داری ظاہر نہیں کیا۔ ان کے مطابق ان کے رویے میں عاجزی کی کمی تھی اور وہ پچھتاوے کے بجائے خود اعتمادی سے بھرپور نظر آئیں، جس پر انہوں نے خود احتسابی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سنیترا پوار سے بطور پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ زیادہ فعال کردار کی امید تھی، لیکن کیپٹن اشوک کھرات کیس سامنے آنے کے بعد تین دن تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔انجلی دامانیا کے مطابق وسیع پیمانے پر تنقید اور وزیر اعلیٰ فڑنویس کی ہدایت کے بعد ہی روپالی چاکنکر کا استعفیٰ منظور کیا گیا، جس سے انتظامی ردعمل کی رفتار پر سوال اٹھتے ہیں۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande