مدھیہ پردیش میں عید گاہ کے ساتھ ہی مختلف مساجد میں ادا کی گئی عید الفطر کی نماز، بھوپال میں امریکہ-اسرائیل کے خلاف نعرے لگے
بھوپال، 21 مارچ (ہ س)۔ پورے ملک کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش میں بھی ماہِ رمضان میں 30 دن کے روزے رکھنے کے بعد ہفتہ کو عیدالفطر کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ بھوپال، اندور، جبل پور، اجین سمیت پوری ریاست میں اس موقع پر عیدگاہ کے ساتھ ہی مساجد
بھوپال کی تاج المساجد میں عید کی نماز ادا کرتے ہوئے مسلم بھائی


مختلف شہروں سے نماز کی تصاویر


بھوپال، 21 مارچ (ہ س)۔ پورے ملک کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش میں بھی ماہِ رمضان میں 30 دن کے روزے رکھنے کے بعد ہفتہ کو عیدالفطر کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ بھوپال، اندور، جبل پور، اجین سمیت پوری ریاست میں اس موقع پر عیدگاہ کے ساتھ ہی مساجد میں عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔ وہیں، بھوپال میں شیعہ طبقے کے لوگوں نے ’کالی عید‘ منائی اور نماز کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

دراصل بھوپال کے شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کے اعلان کے بعد بھوپال میں ہفتہ کو عید منائی گئی۔ یہاں عیدگاہ میں صبح 7.30 بجے پہلی نماز ادا ہوئی۔ اس کے بعد جامع مسجد میں 7.45 بجے، تاج المساجد میں 8.00 بجے اور موتی مسجد میں 8.15 بجے نماز ہوئی۔ تاج المساجد میں مولانا حسان صاحب کی سرپرستی میں خصوصی دعا کرائی گئی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی۔ عیدگاہ پر شہر قاضی مشتاق علی ندوی، تاج المساجد میں مولانا حسان صاحب اور موتی مسجد میں شہر مفتی مولانا عبدالکلام نے نماز ادا کرائی۔

وہیں، بھوپال کے فتح گڑھ امام باڑہ میں اس بار عیدالفطر کا منظر بدلا ہوا نظر آیا۔ خوشیوں کے روایتی جوش و خروش کے بجائے یہاں غم اور احتجاج کا ماحول نظر آیا۔ یہاں شیعہ طبقے نے ’کالی عید‘ منائی۔ فتح گڑھ امام باڑہ میں ایران اور فلسطین کے حالات سے رنجیدہ ہو کر بڑی تعداد میں لوگوں نے کالی پٹی باندھ کر نماز ادا کی اور اپنا احتجاج درج کرایا۔ ساتھ ہی نماز کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

نماز کے بعد مولانا رضی الحسن نے اجتماعی دعا کرائی، جس میں ایران کے استحکام اور مسجدِ اقصی (فلسطین) کی آزادی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مولانا نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی بد امنی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ اس بار گھروں میں پکوان نہ بنا کر سادگی سے عید منائیں، تاکہ دنیا کو اتحاد اور حساسیت کا پیغام دیا جا سکے۔ ساتھ ہی ہندوستان میں پہلے جیسے امن و چین، آپسی بھائی چارے اور نفرت کے خاتمے کے لیے بھی خصوصی دعا مانگی گئی۔

اندور میں عید کے موقع پر شہر قاضی ڈاکٹر عشرت علی ونٹیج کار سے صدر بازار عیدگاہ پہنچے۔ اندور میں سلواریہ خاندان تقریباً 60 سال سے شہر قاضی کو ان کے گھر سے لا کر صدر بازار عیدگاہ پہنچانے اور چھوڑنے کی روایت نبھاتا آ رہا ہے۔ آج بھی عید کے موقع پر سلواریہ خاندان کی دوسری نسل ستیہ نارائن سلواریہ ونٹیج کار اور بگھی لے کر راج محلہ میں واقع شہر قاضی کے گھر پہنچے اور انہیں صدر بازار عیدگاہ لانے کا کام کیا۔ اس دوران شہر قاضی نے اپنے پیغام میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے دور رہنے کی صلاح دی۔ انہوں نے موجودہ عالمی حالات اور جنگ کے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی اور امن و چین برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ ستیہ نارائن سلواریہ نے بتایا کہ میرے والد رام چندر سلواریہ نے اس کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد سے یہ روایت جاری ہے۔ پہلے ہمارے والد شہر قاضی کے والد کو عیدگاہ لے کر جاتے تھے، اب وہی روایت ہم نبھا رہے ہیں۔

کھنڈوا میں عیدگاہ پر نماز سے پہلے خطاب ہوا۔ مولانا نے کہا کہ قرآن میں خواتین کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔ انہیں خوشیاں دینے اور حقوق دینے کا ذکر ہے۔ وہیں، ریوا کی سنی جامع مسجد حمیدیہ کالونی، جامع مسجد بڑی درگاہ، بان ساگر مسجد، فلک نما مسجد اور خوشبو گیراں مسجد، رانی گنج، بچھیا، ترہٹی اور امہیا علاقوں کی مسجدوں میں عید کی نماز ادا کی گئی۔ کھرگون میں محمد لقمان صاحب نے شہر کی بڑی عیدگاہ میں عید کی خصوصی نماز ادا کرائی۔ انہوں نے ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوا۔

بالا گھاٹ میں مسلم عقیدت مندوں نے عید کا تہوار عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ پولیس لائن میں واقع عیدگاہ میں صبح 8.45 بجے مولانا شمشیرِ حق مصباحی نے نماز ادا کرائی، جبکہ جامعہ نوریہ مدرسہ میں 9.15 بجے نماز ہوئی۔ اس دوران بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے اور روایت کے مطابق خصوصی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دی گئی اور امن و چین کی دعائیں مانگی گئیں۔

رتلام کے لکڑ پیٹھا میں واقع پرانی عیدگاہ میں شہر قاضی احمد علی نے عیدالفطر کی خصوصی نماز کرائی۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک میں تہوار کو لے کر بھاری جوش نظر آیا۔ اس موقع پر میئر پرہلاد پٹیل، انتظامی حکام اور عوامی نمائندوں نے عیدگاہ پہنچ کر سب کو گلے مل کر مبارکباد دی اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ میئر پرہلاد پٹیل نے مسلم معاشرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج عبادت کا دن ہے، سب مل جل کر رہیں اور ملک کی ترقی میں تعاون کریں۔

رائسین میں عیدگاہ پر عید کی خصوصی نماز ادا کی جا رہی ہے۔ بڑی تعداد میں مسلمان اس میں شامل ہوئے ہیں۔ ملک کی خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔ اس بار عیدگاہ کے باہر سڑک تک بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر انتظامیہ بھی موجود رہی۔ بھنڈ کی مسجدوں میں ہفتہ کی صبح عیدالفطر کی نماز ہوئی۔ مسلمانوں نے اجتماعی طور پر ملک میں امن و چین اور خوشحالی کی دعا مانگی۔

اس موقع پر رکن اسمبلی نریندر سنگھ کشواہا اور کانگریس کارکنوں نے جامع مسجد پہنچ کر نمازیوں کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دی اور آپسی بھائی چارے کا پیغام دیا۔ اسی طرح پوری ریاست میں عید کا تہوار جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے اور مسلم بھائی ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande