


مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ نے راجستھان کے سرمایہ کاروں سے کیا تبادلہ خیال، کہا: ریاست میں بلا جھجھک بھرپور سرمایہ کاری کریں، حکومت دے گی مکمل تعاون
بھوپال، 21 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش ملک کی بجلی سرپلس ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اب ہم ملک کے ’گرین، کلین اینڈ سولر انرجی کیپیٹل‘ کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ الیکٹرسٹی سرپلس ریاست بننے کے بعد اب مدھیہ پردیش کی بجلی سے دہلی میں میٹرو ٹرین چل رہی ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو ہفتہ کو جے پور میں منعقدہ ’انٹرایکٹو سیشن آن انویسٹمنٹ اپرچیونیٹیز ان مدھیہ پردیش‘ میں راجستھان کے سرمایہ کاروں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں۔ دونوں ریاستیں مل کر ترقی یافتہ، خود کفیل اور مضبوط ہندوستان تیار کر رہی ہیں۔ ہم صرف ورثوں اور تنوع کے ہی نہیں، معاشی نقطہ نظر سے بھی ایک دوسرے کے فطری شراکت دار ہیں۔ راجستھان کا ترقی یافتہ ٹیکسٹائل، جیمز اینڈ جیولری اور مدھیہ پردیش کی آرگینک کاٹن کی پیداواری صلاحیت، ٹیکسٹائل پارک اور مضبوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم مل کر ایک مضبوط ویلیو چین تیار کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کے درمیان پاروتی-کالی سندھ-چنبل قومی ندی جوڑو منصوبے پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ریاستوں کی تصویر اور تقدیر بدل دے گا۔ تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کے اس منصوبے میں دونوں ریاستوں کو صرف 5-5 فیصد رقم دینی ہوگی، اس کی 90 فیصد لاگت حکومتِ ہند برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان روٹی اور بیٹی کا رشتہ رہا ہے اور اب پانی کا رشتہ بھی بن گیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک بے مثال ترقی کر رہا ہے۔ ریاستوں کے درمیان قدرتی وسائل کی تقسیم خوش اسلوبی سے مکمل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان کے تاجروں نے ملک و دنیا میں کاروبار میں اپنا نام کمایا ہے۔ دولت کمانے کے لیے دل اور دماغ چاہیے۔ راجستھان کے تاجروں نے اپنی صلاحیت، حکمت اور قابلیت سے اپنا لوہا منوایا ہے۔ ہم یہاں دونوں ریاستوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے آئے ہیں۔ موجودہ حالات میں کئی طرح کے چیلنجز ہیں، ساتھ ہی ہمارے پاس آگے بڑھنے کے سنہری مواقع بھی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک ہمارے سرمایہ کار خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے جا رہے تھے، لیکن اب وہاں صورتحال تیزی سے بدل گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں صنعتی شعبے میں قوانین کو سادہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مختلف شعبوں میں صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 26 اقسام کی نئی پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ اب ہم اسپیس اور اے آئی سیکٹر کے لیے بھی پالیسی لانے جا رہے ہیں۔ ریاست میں تقریباً 2 روپے 90 پیسے فی یونٹ کی شرح سے گھریلو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ صنعتی ترقی کے ساتھ مائننگ سیکٹر میں بھی تیز رفتاری سے کام ہو رہے ہیں۔ میڈیکل ٹورزم کے لیے ریاست میں میڈیکل کالجوں کی تعداد تیزی سے بڑھائی جا رہی ہے۔ پی پی پی ماڈل پر میڈیکل کالج اور اسپتال کھولنے کے لیے ایک روپے کی لیز پر زمین دی جا رہی ہے۔ مدھیہ پردیش دودھ کی پیداوار کے شعبے میں بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ریاست میں 5 ہزار سے 50 ہزار کی گنجائش والی بڑی گؤشالائیں کھولنے کے لیے زمین دی جا رہی ہے۔ فی گائے گرانٹ بھی 20 روپے سے بڑھا کر 40 روپے کر دی گئی ہے۔ جانوروں کی نسل کی بہتری اور علاج کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اسکولی بچوں کو مفت دودھ کے پیکٹ تقسیم کرنے کے لیے اسکیم شروع کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ کہتے تھے کہ مدھیہ پردیش میں صنعتیں ٹک ہی نہیں سکتیں، لیکن آج مدھیہ پردیش ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرنے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ مدھیہ پردیش کی صنعتی ترقی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہماری جی ڈی پی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ ریاست میں سرمایہ کاری کا ایک نیا انقلاب آ رہا ہے۔ صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہم نے 6,104 کروڑ روپے اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کا ’سنگل ونڈو سسٹم-انویسٹ ایم پی 3.0 پورٹل‘ ملک کے بہترین ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش انڈسٹریل پروموشن پالیسی 2025 کے تحت ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو شامل کر کے سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کئی بڑی کمپنیاں مدھیہ پردیش آ چکی ہیں اور سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے نرمدا پورم ضلع میں ہندوستان کا پہلا ’مینوفیکچرنگ زون فار پاور اینڈ رینیو ایبل انرجی ایکویپمنٹ‘ تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوٹل اور اسپتال جیسے سیکٹرز میں بڑی سرمایہ کاری پر کیپیٹل سبسڈی دی جا رہی ہے۔ ریاست کے ریوا میں ٹائیگر سفاری اور ایئرپورٹ کا تحفہ بھی مل چکا ہے۔ ریاست کی ایوی ایشن پالیسی کے تحت ہوائی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو فی فلائٹ 15 لاکھ وی جی ایف دیا جا رہا ہے۔ ریاست کے اندر اور ریاست سے باہر بھی ہیلی کاپٹر سروس دستیاب کرائی جا رہی ہے۔ ٹورزم کو فروغ دینے کے لیے پی ایم شری ہیلی سروس شروع کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش نے بجلی کی مناسب تقسیم کے لیے اترپردیش کے ساتھ ایک ماڈل تیار کیا ہے۔ مارینا میں پلانٹ لگا کر 6-6 ماہ بجلی استعمال کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پی کے سی منصوبے میں دونوں ریاستوں نے ایک دوسرے کی بہتری کے لیے فیصلہ کیا ہے۔ خشک علاقے کو پانی مل جائے تو لوگوں کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اسی لیے یہی وقت ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان ملک کے ساتھ آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان کی کاروباری مہارت اور مدھیہ پردیش کی وسائل کی صلاحیت مل کر سینٹرل انڈیا کو انڈسٹریل پاور سینٹر بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے دل، لامحدود امکانات اور ترقی کے مواقع کے مرکز سے جڑیے اور بلا جھجھک مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کیجیے۔ مدھیہ پردیش میں بہتر پالیسیاں، بہتر مواقع، بہتر مراعات، بہتر ایکو سسٹم، بہتر مارکیٹ لنکیج اور بہتر گروتھ ریٹ کے ساتھ آپ کو ہر قدم پر حکومت کا مکمل تعاون ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن