امریکہ نے ایرانی تیل پر پابندی ہٹانے کا اشارہ دیا
امریکہ نے ایرانی تیل پر پابندی ہٹانے کا اشارہ دیا واشنگٹن/دبئی، 20 مارچ (ہ س)۔ امریکہ-اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے توانائی کے ٹھکانوں کو سلسلہ وار نشانہ بنانے سے کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس سے خام تیل کی قیمت اور عالمی م
یہ ہے قطر کی راس لفان انڈسٹریل سٹی۔ یہ قطر کا اہم مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پیداواری مرکز ہے۔ ایران کے یہاں حملے کے بعد پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


امریکہ نے ایرانی تیل پر پابندی ہٹانے کا اشارہ دیا

واشنگٹن/دبئی، 20 مارچ (ہ س)۔ امریکہ-اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے توانائی کے ٹھکانوں کو سلسلہ وار نشانہ بنانے سے کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس سے خام تیل کی قیمت اور عالمی معیشت پر زبردست اثر پڑا ہے۔ قطر کی راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ہونے والے ایرانی حملے سے واشنگٹن بھی اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی تیل پر پابندی ہٹانے کا اشارہ دیا ہے۔

دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس ہلچل کے درمیان امریکہ پابندیوں میں ڈھیل دینے پر غور کر رہا ہے۔ ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس ایرانی تیل پر سے پابندی ہٹا سکتی ہے، جو پہلے ہی جہازوں میں لوڈ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیج فارس کے پار توانائی کے انفراسٹرکچر پر ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں سے بڑے توانائی بحران کی آہٹ آنی شروع ہو گئی ہے۔ حالانکہ راس لفان انڈسٹریل سٹی پر حملے کے بعد ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے دوبارہ قطر پر حملہ کیا، تو وہ ایران کے ’ساوتھ پارس‘ گیس کے ذخائر کو اڑا دے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں دنیا کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سہولت موجود ہے۔

ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے تقریباً 140 ملین بیرل تیل پر سے پابندی ہٹا سکتی ہے۔ یہ جہازوں میں لوڈ ہو چکا ہے۔ امریکہ ایسا پہلے روسی تیل کے ساتھ بھی کر چکا ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ اس قدم سے صرف اس خام تیل کا راستہ بدلے گا جسے ایران پہلے ہی چین کو رعایتی نرخوں پر فروخت کر رہا ہے۔ اس سے وہ مارکیٹ ریٹ پر ایشیا کے دیگر ممالک تک پہنچ سکے گا۔ بیسنٹ نے تسلیم کیا کہ اگر امریکہ ایرانی تیل پر سے پابندی ہٹاتا ہے تو اس کی قیمت مارکیٹ ریٹ تک پہنچ جائے گی اور وہ چین کے علاوہ دیگر جگہوں پر فروخت ہو گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande