
گروگرام، 20 مارچ (ہ س)۔ پولیس نے ایک بنگلہ دیشی شہری کو گروگرام کے اسکولوں میں بم نصب کرنے کا دعویٰ کرنے والی جعلی ای میل بھیج کر خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزم تقریباً نو سال قبل بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوا تھا اور جعلی دستاویزات کے ذریعے یہاں رہ رہا تھا۔پولس پوچھ تاچھ کے دوران ملزم سوربھ بسواس عرف مائیکل (30) نے اسکولوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے بم کی افواہ پھیلانے کا اعتراف کیا۔ وہ اصل میں بنگلہ دیش سے ہے اور اس وقت مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے سری پلی بازار کے گووند پلی علاقے میں رہتا ہے۔تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزم ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گرافکس میں کام کرتا تھا اور گزشتہ پانچ سال سے فری لانسنگ کر رہا تھا۔ وہ فیس بک گروپ کے ذریعے مامون الرشید نامی شخص سے رابطے میں آیا، جس نے جی میل آئی ڈیز کی درخواست کی۔ ملزم نے تقریباً 250یو ایس ڈی ٹی (کرپٹو کرنسی) کے بدلے تقریباً 300جی میل آئی ڈیز فراہم کیں۔پولیس کے مطابق ان میں سے ایک ای میل آئی ڈی کا استعمال گروگرام کے اسکولوں میں بموں کے بارے میں غلط معلومات بھیجنے کے لیے کیا گیا تھا۔دراصل 28 جنوری 2026 کو گروگرام کے کئی اسکولوں میں ای میل کے ذریعے بم کی دھمکی موصول ہوئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ہریانہ پولیس، ڈاگ اسکواڈ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچی اور مکمل تحقیقات کی، تاہم کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔اسکول انتظامیہ کی شکایت کی بنیاد پر گروگرام کے سائبر ساو¿تھ پولیس اسٹیشن میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دوران تفتیش پولیس نے ملزم کو گجرات سے گرفتار کر لیا۔فی الحال ہریانہ پولیس ملزم سے اچھی طرح پوچھ گچھ کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس سازش میں اور کون کون شامل ہو سکتا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan