
نئی دہلی، 20 مارچ (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے 2030 تک اسکولی تعلیم میں صد فیصدمجموعی اندراج کا تناسب (جی ای آر ) حاصل کرنے کے مقصد سے ایک اہم اقدام میں اسکول سے باہر اور ڈراپ آوٹ بچوں کی شناخت کرکے ان کا اندراج کرنے کے لیے پورے ملک میں ایک خصوصی مہم شروع کرنے کی تیاری کی ہے۔
وزارت تعلیم نے جمعہ کو کہا کہ یہ پہل محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی (ڈی او ایس ای ایل) وزارت تعلیم کی طرف سے کی جا رہی ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے’وکست بھارت 2047‘ اور ’آتم نر بھر بھارت‘ کے وژن کے مطابق ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی ) 2020 نے 2030 تک پری اسکول سے سیکنڈری سطح تک صد فیصد جی ای آر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم، متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) 2023-24 کی رپورٹ کے مطابق، 14-18 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑبچے اسکول نہیں جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، گریڈ 3 سے 8 تک کے تقریباً 11 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں اور ہر سال 50 لاکھ سے زائد طلباء بورڈ کے امتحانات میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس ) کے کردار کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔این آئی او ایس ، دنیا کا سب سے بڑا اوپن اسکولنگ بورڈ، سیکھنے کے مستحکم نظام، آن ڈیمانڈ امتحانات، پیشہ ورانہ کورسز اور جامع تعلیم کے ذریعے طلباءکو مواقع فراہم کرتا ہے۔
حکومت ”این آئی او ایس متر“ پروگرام بھی شروع کرے گی، جس کے تحت تربیت یافتہ کارکن گھر گھر جا کر اسکول سے باہر بچوں کی شناخت کریں گے، مشاورت فراہم کریں گے اور اندراج میں مدد کریں گے۔ یہ پروگرام خاص طور پر غریب، قبائلی، نقل مکانی کرنے والے اور اقلیتی برادریوں کے بچوںپر مرکوز ہوگا۔
این آئی او ایس کے ملک بھر میں 10,800 سے زیادہ مطالعاتی اور امتحانی مراکز ہیں اور ہر بلاک میں کم از کم ایک مرکز قائم کرکے ان مراکز کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ پی ایم شری اسکول، کیندریہ ودیالیہ، نوودیا ودیالیہ اور سرکاری سینئر سیکنڈری اسکولوں کو بھی این آئی او ایس مراکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد