کمیشن نے انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر اشتہارات کے لیے قوانین سخت کر دیے
نئی دہلی، 20 مارچ (ہ س)۔ الیکشن کمیشن (ای سی آئی) نے آئندہ اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات کے پیش نظر انتخابی اشتہارات اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اب کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کے لیے ڈ
کمیشن نے انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر اشتہارات کے لیے قوانین سخت کر دیے


نئی دہلی، 20 مارچ (ہ س)۔

الیکشن کمیشن (ای سی آئی) نے آئندہ اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات کے پیش نظر انتخابی اشتہارات اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اب کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اشتہار دینے سے پہلے حکومتی کمیٹی سے اجازت لینا لازمی ہو گا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، سیاسی جماعتوں کو آسام، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو، اور مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران میڈیا سرٹیفیکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (ایم سی ایم سی ) سے اشتہارات کی پری سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ امیدواروں کو اپنے مستند سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی تفصیلات بھی شیئر کرنے کی ضرورت ہوگی۔

15 مارچ کو الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات اور چھ ریاستوں میں ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا۔ کمیشن کے حکم کے مطابق، امیدوار ضلعی سطح کے ایم سی ایم سی میں درخواست دے سکتے ہیں، اور سیاسی جماعتیں ریاستی سطح کے ایم سی ایم سی میں درخواست دے سکتی ہیں۔ اگر کوئی کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے تو چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کی سربراہی میں اپیل کمیٹی کے پاس شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔

شفافیت کو بڑھانے کے لیے کمیشن نے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اپنے حلف نامے میں اپنے مستند سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی تفصیلات لازمی طور پر فراہم کریں۔ کسی بھی سیاسی اشتہار کو بغیر پیشگی تصدیق کے انٹرنیٹ پر شائع کرنا قواعد کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ’پیڈ نیوز‘ کے معاملات پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ مزید برآں، سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے اختتام کے 75 دنوں کے اندر اپنے ڈیجیٹل مہم کے تمام اخراجات کمیشن کو جمع کرانا ہوں گے۔ اس میں ویب سائٹ کے اشتہارات، مواد کی تخلیق (ویڈیو/گرافکس) اور سوشل میڈیا اکاو¿نٹ مینجمنٹ کے لیے ادائیگیاں شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande