پرچھائیاں: ساحر لدھیانوی کی جائے تخلیق
وویک شکلا ممبئی کبھی نہیں رکتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ شہر وقت کی دھڑکن کے ساتھ رواں دواں ہے۔ دن رات، بغیر توقف کے، بغیر تھکے۔ سڑکوں پردوڑتی بھاگتی کاریں، دیر رات تک جگمگاتی روشنیاں اور کام میں محو لوگ اس شہر کی شناخت ہیں۔ لیکن جب آپ جوہو کی طرف رخ
پرچھائیاں: ساحر لدھیانوی کی جائے تخلیق


وویک شکلا

ممبئی کبھی نہیں رکتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ شہر وقت کی دھڑکن کے ساتھ رواں دواں ہے۔ دن رات، بغیر توقف کے، بغیر تھکے۔ سڑکوں پردوڑتی بھاگتی کاریں، دیر رات تک جگمگاتی روشنیاں اور کام میں محو لوگ اس شہر کی شناخت ہیں۔ لیکن جب آپ جوہو کی طرف رخ کرتے ہیں اور بحیرہ عرب کے ساحل پر پہنچتے ہیں تو اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ شہر کا شور پیچھے چھوٹ جاتاہے۔ ہوا میں ہلکی نمی ہے، اور لہریں ایک سلسلہ وار موسیقی تخلیق کرتی ہیں۔ اس پرسکون علاقے میں چھپا ہے وہ گھر جہاں مشہور شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنی زندگی کا ایک طویل اور تخلیقی دور گزارا۔ اس گھر کا نام ہے ”پرچھائیاں“۔

پرچھائیاں کی تلاش میں

راستے میں کئی لوگوں سے پوچھتے ہیں۔ کوئی کندھے اچکاکر کہتاہے ، نہیں معلوم، کوئی مسکرا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ضد ہے اس گھر کو دیکھنے کی جہاں ساحر نے بے شمار گیت اور غزلیں تخلیق کیں۔ دیواروں کو چھونے کی، ان کمروں کی ہوا میں سانس لینے کی۔ چلتے رہتے ہیں، گلیوں سے گزرتے ہیں۔ اور عجیب اتفاق - جیسے ہی پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں، راستہ خود ہی کھل جاتا ہے۔ اچانک ایک بڑے ، سرمئی رنگ کے پرسکون بنگلے کے نام کی تختی پر نظر ٹھہر جاتی ہے۔ سیاہ حروف میں رومن رسم الخط میں لکھا ہے Parchhaiyan۔

پرچھائیاں یعنی سائے۔ یہ نام پڑھتے ہی ساحر کی کئی سطریں ذہن میں ابھرآتی ہیں۔ ان کی شاعری میں گہری اداسی تھی، لیکن وہ اداسی مایوسی نہیں، ہمدردی کی روشنی تھی۔ یہ بنگلہ تقریباً پانچ سو مربع گز پر پھیلا ہوا ہے۔ ممبئی میں رہنے والے واستو ماہر ڈاکٹر جے پی شرما لال دھاگے والے ساحر صاحب کے بنگلے کا گزشتہ کئی دہائیوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسکی بالکنیوں سے کبھی بحیرہ عرب صاف نظر آتا ہوگا۔ بالائی منزلوں میں ساحر اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے۔ شام ڈھلتی، سمندر کی ٹھنڈی ہوا اندر آتی اور کمروں میں کتابوں، کاغذوں اور سیاہی کی ہلکی مہک پھیل جاتی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں راتیں جاگتی تھیں، اور الفاظ آہستہ آہستہ شاعری کی شکل اختیار کر لیتے تھے۔

تخلیقی ماحول اور لافانی گیت

اس گھر کے دروازے دوستوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ فلم ساز، موسیقار، کوی اور شاعر یہاں آیا کرتے۔ کوئی دھن گنگناتا، کوئی سیاسی بحث چھیڑ دیتا اور کوئی نئی نظم سناتا۔ ساحر خاموشی سے سنتے، پھر اچانک ایک مصرعہ بولتے- اور کمرے میں خاموشی چھا جاتی، کیونکہ وہ مصرعہ براہ راست دل میں اتر جاتا۔ اسی ماحول میں کئی لافانی فلمی گیتوں نے جنم لیا۔ جیسے اڑیں جب جب زلفیں تیری (فلم: نوٹنکی)، جو محبت کی خوشی کا اظہار کرتی ہے، یا تم سا نہیں دیکھا (فلم: تم سا نہیں دیکھا)، جس میں ساحر کی رومانوی حساسیت نظر آتی ہے۔

ان کے مصرعے بیک وقت آدرشوں کی ٹوٹ پھوٹ، معاشرے کی ستم ظریفی اور محبت کی نرمی کوایک ساتھ بیاں کرتی تھیں۔ ان کا قلم احتجاج بھی کرتا تھا اور انسانیت کی لو بچائے رکھتا تھا۔فلم پیاسا کے ’یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے“ جیسے گیت اسی گھر کی دیواروں میں گونجے ہوں گے، سماجی نا انصافی پر ان کا تیکھا تبصرہ الفاظ میں ڈھلتا تھا۔ یا ابھی نہ جاو چھوڑ کر ‘(فلم ہم دونوں)،جو محبت کی اداسی اور بے چینی کو اتنی گہرائی سے بیان کرتی ہے کہ سن کر دل بھر آتا ہے۔

ماں کے تئیں ایثار اور ذاتی زندگی

ساحر کی ذاتی دنیا بھی اسی گھر میں بستی تھی۔ انہوں نے شادی نہیں کی۔ ان کی سب سے بڑی طاقت ان کی والدہ سردار بیگم تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی بڑی بحث یا فیصلے سے قبل وہ ہمیشہ اپنی ماں کی رائے سنتے تھے۔ مہمان بیٹھے ہوں، بحث جاری ہو، وہ اٹھ کر ماں کے کمرے میں جاتے اور پوچھتے،”آپ کیا سوچتی ہیں؟“ماں کے تئیں یہ احترام ان کی ذاتی زندگی کی نرمز مزاجی کو اجاگر کرتا ہے۔ جب 1976 میں ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو ساحر اندر خالی ہو گئے۔ چار سال بعد 25 اکتوبر 1980 کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کی زندگی رک گئی۔

خاموشی اور وراثت

ساحر کے انتقال کے بعد ”پرچھائیاں“ پر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ کبھی جن کمروں میں موسیقی اور شاعری گونجا کرتی تھی وہاں اب خاموشی آباد تھی۔ وراثت پر تنازعات پیدا ہوئے اور وسیع لائبریری بکھر گئی۔ کچھ مخطوطات اتفاق سے ملیں جنہیں مداحوں نے محفوظ کر لیا۔ آج یہ بنگلہ تھوڑا سا تھکا ہوا کھڑا ہے، جیسے وقت کی دھول اس پر جم گئی ہو۔ پھر بھی، دیواریں ان الفاظ کی گونج کو برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ نیم پلیٹ پر تحریر پرچھائیاں کا لمس بتاتی ہے کہ حقیقی شاعری دیواروں میں نہیں، لوگوں کی یادوں میں رہتی ہے۔

شاید اس لیے یہ گھر آج بھی ایک یادگار کی طرح کھڑا ہے ، یاد دلاتا ہوا کہ ایک شاعر کی اصل میراث اس کی نظمیں اور لوگوں کے دل ہوتے ہیں۔ اور جب الفاظ دل سے نکلے ہوں تو وہ ممبئی کی بھیڑ میں بھی کبھی کھوتے نہیں۔

(مضمون نگار سینئر صحافی اور معروف کالم نگار ہیں )

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande