
نئی دہلی، 02 مارچ (ہ س)۔ ہندوستان نے آج مغربی ایشیا میں فوجی تنازعہ کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ فریقوں سے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے پر زور دیا اور ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی سیکورٹی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی حفاظت اور سلامتی کے لئے ہندوستانی مشن کے ساتھ رابطے میں رہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے درمیان یہاں حیدرآباد ہاو¿س میں ہندوستان-کناڈا سربراہی اجلاس کے بعد دورہ پر آئے رہنما کے ساتھ اپنے پریس بیان میں، وزیر اعظم مودی نے کہا، دنیا میں شدید تناو¿ پر ہندوستان کا موقف واضح ہے۔ ہم نے ہمیشہ امن اور استحکام کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ اور جب دو جمہوریتیں ایک ساتھ کھڑی ہوں تو امن کی آواز اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔
مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال ہمارے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ ہندوستان تمام تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ ہم خطے میں تمام ہندوستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور کناڈااس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور بنیاد پرستی نہ صرف ہمارے دونوں ممالک بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشترکہ اور سنگین چیلنجز ہیں۔ ان کے خلاف ہمارا قریبی تعاون عالمی امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
بعد ازاں، سربراہی اجلاس کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں، وزارت خارجہ میں سکریٹری (مشرق) پی کمارن نے مغربی ایشیا کے بحران پر ایک سوال کے جواب میں کہا، ''جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں، یہ اس وقت ایک گرما گرم موضوع ہے، اور اس لیے اس پر بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دیں اور یہ بھی کہا کہ کشیدگی کو کم کرنے اور اندرونی مسائل کے حل کے لیے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہیں چوکس رہنے، مشنوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور مقامی سیکورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی