
کولکاتہ، 2 مارچ (ہ س)۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو مغربی بنگال میں پریورتن یاترا کے ایک حصے کے طور پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری ملازمین، نوجوانوں اور ملازمت کے خواہشمندوں کے لیے کئی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ریاست میں حکومت بناتی ہے تو سرکاری ملازمین کو 45 دنوں کے اندر مہنگائی الاو¿نس ملے گا اور 7 واں پے کمیشن نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے اسے طویل عرصے سے زیر التوا مالی انصاف فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے رائدیگھی اسمبلی حلقہ کے بھگوتی پور میں ایک ریلی میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا اور سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا بی جے پی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ریاست میں تمام خالی سرکاری عہدوں کو پر کرنے کا عمل 26 دسمبر سے شروع ہوگا۔ بھرتی کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے نقصان اٹھانے والے نوجوانوں کو عمر میں پانچ سال کی خصوصی رعایت دی جائے گی تاکہ وہ دوبارہ روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ملازمت کے متلاشیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ریاست میں ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتی کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کو کافی عرصے سے بھرتی کے عمل میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو یہ صورتحال بدل جائے گی۔
سرکاری ملازمین کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ ساتویں پے کمیشن کے نفاذ سے ملازمین کو مالی استحکام ملے گا اور انتظامی نظام مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور مہنگائی الاو¿نس سمیت تمام بقایا فوائد کو یقینی بنائے گی۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ، عزت اور معاشی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔اس کے لیے 5,700 کروڑ روپے کا خصوصی بندوبست کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خواتین کے لیے ان کی سماجی اور معاشی حیثیت کو مضبوط بنانے کے لیے اسکیمیں نافذ کی جائیں گی۔
اساتذہ کی بھرتی سے متعلق تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ تقریباً 26,000 اساتذہ کے معاملے کو شفاف اور قانونی طریقے سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری مالیاتی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ مستحق امیدواروں کو انصاف مل سکے۔
امت شاہ نے بدعنوانی کے معاملے پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں گھوٹالوں اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کی تحقیقات کی جائیں گی اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن میں ملوث افراد کو سیاسی تحفظ نہیں دیا جائے گا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
امن و امان کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ ریاست میں جرائم پیشہ عناصر اور مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں بالخصوص خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امن و امان کو مضبوط کیا جائے گا اور سیاسی سرپرستی حاصل کرنے والے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مسلمانوں کی خوشامد اور غیر قانونی دراندازی کے معاملے پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ دراندازوں کی مناسب کارروائی کے ذریعے شناخت کی جائے گی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری کارروائی کی جائے گی۔
اجتماع کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال کی ثقافتی اور روحانی روایات کا ذکر کرتے ہوئے گنگا ساگر اور اس کے تاریخی ورثے کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہپریورتن یاترا ریاست میں اچھی حکمرانی، انتظامی شفافیت قائم کرنے اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت کے قیام سے انتظامی شفافیت قائم ہوگی، روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور اقتصادی ترقی میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے لوگوں سے تبدیلی کے مقصد کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صرف فیصلہ کن تبدیلی ہی مغربی بنگال کو ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ