امریکی صدر کا ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں چار ہفتے لگنے کا تخمینہ
واشنگٹن،02مارچ(ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں تقریباً چار ہفتے یا اس سے کم وقت لگ سکتا ہے۔انھوں نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’ہم نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس میں تقریباً چار ہفتے لگی
امریکی صدر کا ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں چار ہفتے لگنے کا تخمینہ


واشنگٹن،02مارچ(ہ س)۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں تقریباً چار ہفتے یا اس سے کم وقت لگ سکتا ہے۔انھوں نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’ہم نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس میں تقریباً چار ہفتے لگیں گے۔ یہ آپریشن ہمیشہ سے تقریباً چار ہفتوں کا ہی تھا، اس لیے اس کی پیچیدگی کے باوجود، یہ چار ہفتے یا اس سے کم وقت لے گا‘۔اس سے قبل 28 فروری کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے، جس میں اس کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایرانی بحری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے جسے انہوں نے ایرانی خطرہ قرار دیا۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب نے ایک بڑے جوابی آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اسرائیلی اہداف کی جانب میزائل اور ڈرون داغنا شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی گئی ہے۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے اتوار کے روز ایرانیوں کو اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دی، یہ دعوت ملک پر اس امریکی اسرائیلی حملے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک وڈیو خطاب میں کہا کہ میں ان تمام ایرانی محب وطنوں سے جو آزادی کے خواہاں ہیں، اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس لمحے سے فائدہ اٹھائیں، ہمت، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کریں اور اپنے ملک کو واپس حاصل کریں۔ امریکہ آپ کے ساتھ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande