
کانپور، 2 مارچ (ہ س)۔ ہولی کے رنگوں کے ساتھ ساتھ اس بار مٹھاس بھی شاہانہ انداز میں بازاروں میں دکھائی دے رہی ہے۔ روایتی گجھیا، اب ذائقے تک محدود نہیں رہیں، انہیں لگژری اور صحت کا ایک ٹچ بھی دیا گیا ہے۔ شہر کے مٹھائی بازاروں میں سونے اور چاندی سے سجی گجھیا توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جب کہ شوگر فری اور گڑ سے بنی گجھیا بھی تیزی سے فروخت ہو رہی ہیں۔
ہولی کے تہوار سے پہلے شہر کے بازاروں میں مٹھائی کی دکانوں پر خاص رونق ہے۔ اس سال گجھیا کی کئی پریمیم اور صحت بخش اقسام متعارف کرائی گئی ہیں۔ سونے کے ورق سے مزین گولڈن گجھیا 31,000 فی کلو گرام میں فروخت ہو رہی ہے ، جبکہ چاندی کے ورق سے مزین سلور گجھیا2,100 فی کلوگرام میں دستیاب ہیں۔
صحت کے تئیں بیدار صارفین کے لیے، شوگر فری اور گڑ سے بنی گجھیا بھی تیار کی گئی ہیں، جن کی قیمت 1,000 روپے سے 1,500 روپے فی کلوگرام کے درمیان ہے۔ زعفران اور انجیر کی گجھیا کی بھی مارکیٹ میں بہت زیادہ مانگ ہے۔
ایک مٹھائی کی دکان کے مالک گورو نے پیر کوبتایا کہ اس سال لوگ روایتی ذائقوں کے ساتھ ساتھ پریمیم اور صحت بخش متبادل کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ تہوار کے دوران گفٹ دینے کے لیے زیادہ مہنگی اور خاص قسم کی گجھیوں کا انتخاب بھی کر رہے ہیں۔
خریداری کے لیے آنے والے گاہک سندیپ نے بتایا کہ وہ ہر سال باقاعدہ گجھیا خریدتے تھے، لیکن اس بار کچھ نیا ٹرائی کرنے کے لیے انہوں نے زعفرانی گجھیا خریدیں۔ اس دوران صارف راکیش نے کہا کہ چونکہ خاندان میں شوگر کے مریض ہیں، اس لیے شوگر فری گجھیاخریدنا ایک بہتر متبادل لگتا ہے۔
مجموعی طور پر اس بار ہولی کے موقع پر بازاروں میں مٹھاس کے ساتھ ساتھ شان وشوکت اور صحت کا سنگم نظر آرہا ہے، جس کی وجہ سے خریداری میں خاص جوش و خروش ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد