
جموں و کشمیر حکومت نے گوشت کی پیدوار بڑھانے کے لیے بیرونی ممالک سے بھیڑوں کی نسل درآمد کرنے کا فیصلہ لیا
جموں، 02 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے مقامی سطح پر اون اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے روس، فن لینڈ، جنوبی افریقہ اور سوئٹزرلینڈ سے اعلیٰ نسل کی بھیڑ اور بکریاں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق اس سے قبل بھی 1400 غیر ملکی نسل کے جانور حاصل کیے جا چکے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ رومنو اور فن بھیڑوں کی نسلیں بالترتیب روس اور فن لینڈ سے درآمد کی جائیں گی، جبکہ بوئر اور سوئس الپائن بکریوں کی نسلیں بالترتیب جنوبی افریقہ اور سوئزرلینڈ سے لائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بوئر اور سوئس الپائن بکریوں کی درآمد آخری مرحلے میں ہے اور رواں سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
محکمہ بھیڑ پروری کے عہدیداروں کے مطابق اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کے حامل مادے کی درآمد کا مقصد افزائش کی رفتار، گوشت کی پیداوار، تولیدی صلاحیت اور مجموعی ریوڑ کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نسلی بہتری ایک طویل مدتی حکمت عملی ہے جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور بیرونِ ریاست سے گوشت کی آمد پر انحصار کم ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کے تحت گوشت کی پیداوار میں خود کفالت کے منصوبے کے تحت 2024-25 کے دوران جموں صوبہ کے لیے 450 ڈورپر جبکہ کشمیر صوبہ کے لیے 450 ٹکسل بھیڑیں درآمد کی گئیں۔ اس کے علاوہ میرینو، ڈورپر اور ٹیکسل نسل کی بھیڑیں آسٹریلیا سے بھی حاصل کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق درآمد شدہ نسلوں کو سرکاری افزائشی فارموں میں رکھا گیا ہے اور ان کی اولاد کو مرحلہ وار 2026-27 کی تیسری سہ ماہی سے کسانوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ مقامی ریوڑ کی منظم نسلی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔
دودھ، پولٹری، مویشی، اون، چارہ اور فیڈ کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے حکام نے کہا کہ دیہی علاقوں میں پیداوار میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی نافذ کی گئی ہے۔دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے حکومت نے اعلیٰ نسلی خصوصیات کے حامل 40 سانڈ درآمد کیے ہیں جبکہ 351 بچھیا پرورش مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر