
حیدرآباد میٹرو ریل کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنے کا عمل تیز
حیدرآباد،02 مارچ (ہ س)۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد میٹرو ریل کوایل اینڈ ٹی کمپنی سے اپنے قبضہ میں لینے کاعمل اب حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ حال ہی میں ریاستی کابینہ کی جانب سے اس فیصلہ کومنظوری دیئے جانے کے بعد حکومت نے مختلف ایجنسیوں کو ذمہ داری سونپی ہے تاکہ اثاثوں کی منتقلی کے دوران کسی قسم کی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔
میٹرو کی ملکیت حکومت کے پاس آنے کے باوجود، اس کے آپریشنس اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بدستور خانگی شعبہ کے پاس رہنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت کی نگرانی میں ایک تھرڈ پارٹی ایجنسی میٹرو کے روزمرہ کے معاملات دیکھے گی۔ فی الوقت فرانسیسی کمپنی کیولس میٹرو کے آپریشنس سنبھال رہی ہے جس کا ایل اینڈ ٹی کے ساتھ معاہدہ نومبر تک ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس معاہدہ میں ایک سال کی توسیع کرسکتی ہے کیونکہ براہ راست حکومت کی سطح پر میٹرو چلانا فی الحال ممکن نہیں ہے۔
ایل اینڈ ٹی کمپنی نے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے میٹروکی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر تک میٹرو پر بینکوں کے کنسورشیم کا تقریباً 12,965 کروڑ روپے کا قرض واجب الادا ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی حکومت سود کے بوجھ کوکم کرنے کے لئے ری فائنانسنگ پر کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک خصوصی کارپوریشن تشکیل دی جائے گی۔ انڈین ریلوے فائنانس کارپوریشن نے حکومت کوقرض فراہم کرنے کے لئے آمادگی ظاہرکی ہے، جو جلد ہی موصول ہونے کی توقع ہے۔ حکومت نے اس پورے منتقلی کےعمل کو آئندہ چند ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ڈیڈلائن مقرر کی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد میٹرو مکمل طور پرسرکاری ملکیت میں آجائے گی۔ تاہم مسافروں کے لئے سفری سہولیات اورانتظام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی کیونکہ تکنیکی انتظام ماہر خانگی ایجنسیاں ہی سنبھالیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق