
ایک نشست نے مہاوکاس اگھاڑی کو مشکل میں ڈالا، شیوسینا یو بی ٹی، کانگریس اور این سی پی سبھی امیدوار کے خواہاںممبئی، 02 مارچ (ہ س)۔ راجیہ سبھا انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی مہاراشٹر کی سیاست میں مہاوکاس اگھاڑی کے اندر ایک نشست کو لے کر کشیدگی نمایاں ہو گئی ہے کیونکہ اسمبلی میں تینوں جماعتوں کی مجموعی طاقت صرف ایک امیدوار کی کامیابی کے لیے کافی ہے، لیکن اسی ایک سیٹ پر سبھی نے اپنا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے امیدوار کے انتخاب کو اتحاد کے لیے سب سے بڑا امتحان بنا دیا ہے۔سیاسی حساب کتاب کے مطابق سات نشستوں میں چار پر بی جے پی کی پوزیشن مضبوط مانی جا رہی ہے جبکہ دو نشستیں شیوسینا (شندے) اور این سی پی (اے پی) کے حصے میں جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعلیٰ فڑنویس نے تمام جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی عددّی طاقت کے مطابق امیدوار طے کریں تاکہ تمام نشستیں بلا مقابلہ منتخب ہو سکیں۔ بی جے پی کی جانب سے خواہش مندوں کے نام مرکزی پارلیمانی بورڈ کو بھیجے جا چکے ہیں اور شندے گروپ بھی اپنے دو امیدواروں پر غور کر رہا ہے۔مہاوکاس اگھاڑی میں اس ایک نشست کے لیے شیوسینا یو بی ٹی کے سنجے راوت کا نام زیرِ بحث ہے جبکہ این سی پی (شرد پوار) اپنے سربراہ کو میدان میں اتارنے کی خواہاں ہے۔ کانگریس نے بھی اس سیٹ پر مضبوط دعویٰ پیش کر دیا ہے جس کے بعد اتحادی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی ایک بڑا سوال بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر رمیش چنّیتھلا نے پیر کے روز ادھو ٹھاکرے سے رابطہ کر کے راجیہ سبھا کے لیے حمایت طلب کی اور اس کے بدلے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ساتھ دینے کی پیشکش کی، تاہم ابھی تک کسی حتمی اتفاق کی خبر نہیں ہے۔ریاستی اسمبلی کی 288 نشستوں میں شیوسینا یو بی ٹی کے 20، کانگریس کے 16 اور این سی پی (ایس پی) کے 10 ارکان ہیں، جس کے باعث تینوں جماعتیں مل کر صرف ایک سیٹ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اسی پس منظر میں اتحاد کے اندر امیدوار کے انتخاب پر اتفاق رائے پیدا کرنا نہایت مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے راجیہ سبھا کی سات نشستوں کے لیے رائے دہی کی تاریخ 16 مارچ مقرر کی ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے