
ایران معاملے پر مودی کی خاموشی معنی خیز : سنجے راوت۔ معصوم طالبات کی ہلاکت پر فوری مذمت کا مطالبہممبئی، 2 مارچ (ہ س)۔ ایران میں پیش آئے حملے اور مبینہ طور پر کمسن طالبات کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے معاملے پر شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے دھڑا) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے سنگین واقعہ پر خاموش رہنا مناسب نہیں اور اس پر ملک کی جانب سے واضح مذمتی بیان آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 100 لڑکیوں کی جان لینے والے اس حملے کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے اور ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم کو بھی اس پر کھل کر ردِعمل دینا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اس کارروائی میں اسرائیل کا نام لیا جا رہا ہے تو پھر حکومت کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔راوت نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جنگ میں شہادت پر بھی ہندوستان کو تعزیت پیش کرنی چاہیے کیونکہ وہ ایک خودمختار ملک کے اعلیٰ ترین رہنما تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے ماضی میں کشمیر کے مسئلے سمیت مختلف مواقع پر ہندوستان کی حمایت کی اور خام تیل کی فراہمی میں بھی تعاون کیا، اس لیے ایسے وقت میں اظہارِ یکجہتی ضروری ہے۔انہوں نے وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر دوست ممالک کے غم میں شریک ہونے کے لیے بھی کسی بیرونی طاقت کی اجازت درکار ہو تو یہ تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا حکومت کسی دباؤ یا خدشے کے باعث خاموش ہے۔سنجے راوت کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور ایران سے متعلق ہندوستان کے سرکاری مؤقف پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے