وزیر اعظم مودی کی 15 مارچ کو کولکاتا میں میگا ریلی
کولکاتا، 2 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے، وزیر اعظم نریندر مودی 15 مارچ کو کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراو¿نڈ میں ایک عظیم الشان میگا ریلی سے خطاب کریں گے۔ یہ ریلی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی اکائی کی طرف سے
PM-MODI-RALLY-KOLKATA-BJP-2026


کولکاتا، 2 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے، وزیر اعظم نریندر مودی 15 مارچ کو کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراو¿نڈ میں ایک عظیم الشان میگا ریلی سے خطاب کریں گے۔ یہ ریلی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاستی اکائی کی طرف سے منعقد کی گئی ”پروارتن یاترا“ کے باضابطہ اختتام کو بھی نشان زد کرے گی، جو اتوار کو ریاست کے نوالگ الگ حصوں سے شروع ہو چکی ہے۔ یہ یاترا تمام 294 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرے گی۔

بی جے پی کی یہ یاترا اتوار کو شروع ہوئی۔ یہ یاترا آج پیر کو بھی تین مرکزی وزرا کی موجودگی میں جاری رہے گی۔ حالانکہ، 3 مارچ کو ”ڈول یاترا“ اور 4 مارچ کو ”ہولی“ کے تہواروں کی وجہ سے، 3 اور 4 مارچ کو کوئی ریلی نہیں ہوگی۔ یاترا 5 مارچ کوپھر سے بحال ہوگی اور پوری ریاست کا احاطہ کرتے ہوئے 15 مارچ کو وزیر اعظم مودی کی ریلی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔

بی جے پی کی ریاستی کمیٹی کے رکن نے کہا کہ یہ پروگرام پی ایم او کی حتمی ہدایات کے تابع ہے، اس لیے اس میں تبدیلی کا امکان ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی اس یاترا میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ پیر کو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے رائدیگھی میں ایک یاترا کے آغاز میں موجود ہوں گے۔ ریلی پہلے اتوار کو ہونا تھی لیکن بعد میں اسے پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا شاہ 15 مارچ کو بریگیڈ پریڈ گراو¿نڈ کی ریلی میں بھی شرکت کریں گے۔

بی جے پی کے کئی مرکزی رہنما بھی یاترا میں سرگرم کردار ادا کریں گے۔ ان میں مرکزی وزرا شیوراج سنگھ چوہان، جے پی نڈا، راج ناتھ سنگھ، نتن گڈکری، دھرمیندر پردھان، سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس شامل ہیں۔

ریاستی کمیٹی کے ایک رکن نے پیر کو کہا کہ یہ دورہ بی جے پی کے لیے ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے مطالبے کو تیز کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا کولکاتہ دورہ پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے اور ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش ہے۔ یہ تقریب آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کے لیے بھی چیلنج بنے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande