
بھوپال، 2 مارچ (ہ س)۔ ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے پیر کو قبائلی اکثریتی بڑوانی ضلع میں مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے منعقدہ کرشی کیبنٹ (زراعتی کابینہ) کی میٹنگ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے براہ راست سوال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کابینہ کا یہ اجلاس صحیح معنوں میں کسانوں اور قبائلی برادریوں کے نام پر منعقد ہو رہا ہے تو محض اعلانات کے بجائے زمینی حقائق پر ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے۔
پٹواری نے پیر کو ایک بیان میں کہا،”بڑوانی صرف کابینہ کی میٹنگوں کی جگہ نہیں ہے؛ یہ ریاست کا قبائلی چہرہ ہے۔ یہاں کھیت اور کھلیانوں کے درمیان بیٹھ کر فیصلے کرنے کا دعویٰ کیا جا رہاہے، کسانوں کے بحران اور قبائلی برادری کے مصائب سے حکومت لاتعلق ہے۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہگیہوں کی فصل کٹ کر منڈیوں تک پہنچ چکی ہے لیکن حکومتی خریداری کا کوئی ٹھوس بندوبست کیوں نہیں ہے؟ گیہوں ، سویا بین اور دھان کے لیے بڑھی ہوئی ایم ایس پی کا وعدہ کب پورا ہوگا؟ امریکی تجارتی معاہدے کی وجہ سے کفایتی زرعی مصنوعات کی درآمد سے مدھیہ پردیش کے کسانوں کوہونے والے نقصانات سے بچانے کے لیےکیا ریاستی حکومت کے پاس کوئی ٹھوس حکمت عملی ہے؟ ژالہ باری اور زیادہ بارش جیسی قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کو بروقت فصل کا بیمہ اور معاوضہ کیوں نہیں ملتا؟
پٹواری نے کہا، ” کسان بہبود سال 2026 کے نام پر ہونے والی کابینہ کی اس میٹنگ سے کسانوں اور قبائلیوں کو امید ہے، لیکن اگر سوالوں کے جواب نہیں ملے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ حکومت کی ترجیحات عوام سے زیادہ اقتدارکی آرائش ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد