
بیروت،02مارچ(ہ س)۔’العربیہ‘ اور’الحدث‘ کے ذرائع کے مطابق پیر کی صبح اسرائیلی فضائی حملوں میں حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لبنانی وزارتِ صحت نے ان حملوں میں ابتدائی طور پر 31 ہلاکتوں اور 149 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔لبنانی صدر جوزف عون نے ایک بیان میں کہا کہ لبنانی سرزمین سے اسرائیل پر راکٹ باری ان تمام کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے جو ریاست نے لبنان کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کے لیے کی تھیں۔ اس کشیدگی کے باعث لبنان بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان میں شدید بمباری کی تنبیہ کے بعد سرحدی علاقوں سے شہریوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں صیدا شہر میں گاڑیوں کا شدید اڑدھام دیکھا گیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی راکٹ باری کے جواب میں اب پورے لبنان میں اس تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں بیروت کا جنوبی علاقہ ضاحیہ بھی شامل ہے۔لبنانی حکام نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ ملک کو اس جنگ میں نہیں دھکیلنا چاہتے جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے حیفہ پر چھ میزائل داغے ہیں اور یمنی حوثی بھی اگلے چند گھنٹوں میں اس لڑائی میں شامل ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جون میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اس وقت حزب اللہ نے کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan