بند کارخانوں کے مزدوروں کے بقایاجات کا مسئلہ: اسمبلی میں گونج
ممبئی ، 02 مارچ (ہ س)۔ تھانے میں بند پڑی صنعتوں کے مزدوروں کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کا معاملہ ریاستی اسمبلی میں زور و شور سے اٹھایا گیا جہاں بی جے پی کے رکنِ اسمبلی سنجے کیلکر نے حکومت سے فوری مداخلت اور متاثرہ مزدوروں کیلئے ٹھوس پالیسی بنانے
بند کارخانوں کے مزدوروں کے بقایاجات کا مسئلہ: اسمبلی میں گونج


ممبئی ، 02 مارچ (ہ س)۔ تھانے میں بند پڑی صنعتوں کے مزدوروں کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کا معاملہ ریاستی اسمبلی میں زور و شور سے اٹھایا گیا جہاں بی جے پی کے رکنِ اسمبلی سنجے کیلکر نے حکومت سے فوری مداخلت اور متاثرہ مزدوروں کیلئے ٹھوس پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مزدور اپنے حقوق کے انتظار میں دنیا چھوڑ گئے اور بعض ملک سے باہر چلے گئے مگر انہیں واجب الادا رقم نہیں ملی جس سے ہزاروں خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران سنجے کیلکر نے تھانے کی بند مفت لال کمپنی اور انڈین ربر کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کے سیکڑوں مزدوروں کا بقایا آج تک ادا نہیں کیا گیا۔ مفلت لال کمپنی کے متعدد ملازمین ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ کئی انتقال کر گئے۔ انڈین ربر کمپنی کی زمین فروخت ہو چکی ہے اور اس کا کچھ حصہ تھانے میونسپل کارپوریشن نے کلسٹر اسکیم کیلئے حاصل بھی کر لیا، اس کے باوجود مزدوروں کے واجبات ادا نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق تقریباً 250 سے 300 مزدور اپنے حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت کسی بھی کمپنی کی زمین اس وقت تک فروخت نہ ہو سکے اور نہ ہی اس پر کوئی نیا پروجیکٹ شروع کیا جائے جب تک مزدوروں کے تمام بقایاجات ادا نہ کر دیے جائیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت ایسی کوئی مضبوط قانونی ضمانت فراہم کرے گی جس سے مزدوروں کو مقررہ مدت کے اندر ان کی مکمل رقم مل سکے۔

اس معاملے پر جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیرِ محنت آکاش فنڈکر نے یقین دہانی کرائی کہ بند کارخانوں اور ان کے مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے جلد ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جائے گا اور ایسا لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا جس کے ذریعے مزدوروں کو وقت پر ان کا حق دلایا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande