اردن میں ایرانی سفیر کی طلبی،اردن اور دیگر عرب ممالک پر حملوں کی شدید مذمت
مسقط،02مارچ(ہ س)۔اردن کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے دار الحکومت عمّان میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کر کے اردن اور برادر عرب ممالک کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔پیر کے روز جاری بیان کے مطابق وزارت نے اتوار کی شام
اردن میں ایرانی سفیر کی طلبی،اردن اور دیگر عرب ممالک پر حملوں کی شدید مذمت


مسقط،02مارچ(ہ س)۔اردن کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے دار الحکومت عمّان میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کر کے اردن اور برادر عرب ممالک کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔پیر کے روز جاری بیان کے مطابق وزارت نے اتوار کی شام ایرانی ناظم الامور کو طلب کر کے ان کی حکومت کے لیے ایک سخت احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔ اس مراسلے میں اردن اور دیگر عرب ممالک کی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اسے ملکی و عرب خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔وزارت نے زور دیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کے قواعد اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ ایک ایسا ناقابل قبول اشتعال ہے جس سے شہریوں کی سلامتی سمیت علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔بیان میں وزارت کے سرکاری ترجمان فو¿اد المجالی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ناظم الامور کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ اردن کو نشانہ بنانے والے حملے فوری طور پر روکے جائیں اور اس کی خود مختاری و علاقائی سلامتی کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اردن اپنے شہریوں کی سلامتی، امن اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب اور ضروری اقدامات اٹھائے گا۔سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز ایران پر ہونے والے امریکی اسرائیلی حملے کے جواب میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی وجہ سے اردن میں پانچ افراد زخمی ہوئے جبکہ 19 گھروں اور 11 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اردنی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 49 بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کرتے ہوئے 13 میزائلوں سمیت کئی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اتوار کو ایران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے اور سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم خلیج میں ہونے والے ان ایرانی حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے جن میں جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔ ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی اس کشیدگی میں کسی بھی خلیجی ملک کی جانب سے یہ اب تک کا سخت ترین سفارتی رد عمل ہے۔ سعودی عرب اور کویت نے بھی ایرانی حملوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ایرانی سفیروں کو طلب کیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande