جموں اور سرینگر رنگ روڈ پروجیکٹ کے لیے اراضی کا معاوضہ، 14 سو معاملات التواء کا شکار
جموں اور سرینگر رنگ روڈ پروجیکٹ کے لیے اراضی کا معاوضہ، 14 سو معاملات التواء کا شکار جموں، 02 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے جموں اور سرینگر شہر میں رنگ روڈ پروجیکٹوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے عوض 1,695 کروڑ روپے بطور معاوضہ جاری کر دیے ہیں،
Road


جموں اور سرینگر رنگ روڈ پروجیکٹ کے لیے اراضی کا معاوضہ، 14 سو معاملات التواء کا شکار

جموں، 02 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے جموں اور سرینگر شہر میں رنگ روڈ پروجیکٹوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے عوض 1,695 کروڑ روپے بطور معاوضہ جاری کر دیے ہیں، جبکہ قانونی چارہ جوئی اور دیگر وجوہات کی بنا پر تقریباً 1,400 معاملات اب بھی زیر التوا ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں پروجیکٹوں پر کام سال 2018 میں شروع ہوا تھا۔ 58.25 کلو میٹر طویل جموں رنگ روڈ ضلع سانبہ کے رایا موڑ کو جموں کے نزدیک جگتی (نگروٹہ) سے جوڑتا ہے، جبکہ 60.84 کلو میٹر طویل سرینگر رنگ روڈ پلوامہ، بڈگام، سرینگر، بارہمولہ اور بانڈی پورہ سمیت چھ اضلاع پر محیط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں پروجیکٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔ حکام نے کہا کہ رنگ روڈ پروجیکٹوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا مجموعی معاوضہ 2,106.70 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس میں سے 1,784.45 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ اب تک 1,695.37 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ مزید 89.08 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہے جبکہ 322.25 کروڑ روپے کی رقم موصول ہونا ابھی باقی ہے۔

جموں صوبہ میں 322.21 کروڑ روپے بطور معاوضہ منظور کیے گئے، جن میں سے 270.11 کروڑ روپے جاری اور 244.43 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ 25.68 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہے جبکہ 52.10 کروڑ روپے موصول ہونا ابھی باقی ہیں۔ کشمیر صوبہ میں 1,784.49 کروڑ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا، جن میں سے 1,514.34 کروڑ روپے جاری اور 1,450.94 کروڑ روپے اب تک تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ 63.40 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہے جبکہ 270.15 کروڑ روپے موصول ہونا ابھی باقی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ معاوضے کی رقم مرکزی وزارت سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان 90اور دس کے تناسب سے تقسیم کی جا رہی ہے۔ زیر التوا معاملات کے حوالے سے حکام نے کہا کہ دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر 1,398 اراضی مالکان کے معاوضے کے کیس ابھی نمٹائے جانا باقی ہیں۔ جموں صوبہ میں 150 معاملات زیر التوا ہیں، جن میں 112 جموں اور 38 سانبہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر صوبہ میں 1,248 معاملات زیر التوا ہیں، جن میں 905 گاندربل، 247 بڈگام، 57 سرینگر، 32 بانڈی پورہ اور 7 بارہمولہ اضلاع کے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق زیر التوا معاملات کی وجہ متعلقہ محکمے کی جانب سے بقیہ فنڈز جمع نہ کرانا، عدالتی مقدمات، ملکیتی تنازعات اور دیگر اراضی سے متعلق جھگڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر متنازع معاملات میں معاوضہ باقاعدگی سے بھومی راشی پورٹل کے ذریعے جاری کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض ملکیتی تنازعات سے متعلق 28.20 کروڑ روپے کی رقم ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande