صدر پیزیشکیان نے قوم سے خطاب میں کہا-انتقام لینا ہمارا حق ہے
تہران، 2 مارچ (ہ س)۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے خامنہ ای کی شہادت کو ”مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ“ قرار دیا اور کہا کہ ذمہ داروں سے بدلہ لینا ایران ک
Iran-Prez-1st-addres-to-nation


تہران، 2 مارچ (ہ س)۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں سخت انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے خامنہ ای کی شہادت کو ”مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ“ قرار دیا اور کہا کہ ذمہ داروں سے بدلہ لینا ایران کا ”جائز فریضہ اور حق“ ہے۔

قوم سے اپنے پہلے خطاب میں، پیزشکیان نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کے ٹھکانوں پر ”طاقتور حملے“ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے خامنہ ای کو ”شہید“قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک ان کے نقش قدم پر آگے بڑھے گا۔

نئی لیڈر شپ کونسل کا اعلان

صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عبوری دور کے دوران حکمرانی کی نگرانی کرنے والی ایک ”نئی قیادت کی کونسل“ نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مساجد اور سڑکوں پر متحد ہو کر دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔

ادھر، ایران نے خلیجی علاقے اور عراقی کردستان کے علاقوں میں امریکی فوجی اڈوں پر نئے حملوں کا اعلان کیا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا کہ مسلح افواج ان حملوں کے ذمہ داروں کو ناقابل فراموش سبق سکھائیں گی۔

قابل ذکر ہے کہ پیزشکیان 2024 میں اصلاح پسند امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے ستمبر 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں ”قومی اتحاد“ اور ’ ’دنیا کے ساتھ تعمیری بات چیت“ پر زور دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا اور مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم اپنے پہلے خطاب میں ایرانی صدر کا موقف مکمل طور پر دفاعی اور انتقامی نظر آیا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سپریم لیڈر کی موت کی خبروں کے درمیان، ایران نے واضح طور پر اشارہ دیا ہے کہ وہ جوابی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande