
نئی دہلی، 2 مارچ (ہ س)۔ ہندوستان اور کناڈا 2030 تک تجارت میں 50 بلین ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ دونوں ممالک نے جلد ہی جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سول نیوکلیئر توانائی کے لیے طویل مدتی یورینیم کی فراہمی کا ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ہندوستان میں ایک انڈیا-کناڈاپلس پروٹین سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور کناڈاکے وزیر اعظم مارک کارنی نے پیر کو دہلی کے حیدرآباد ہاو¿س میں دو طرفہ وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ بات چیت کے بعد دونوں رہنماو¿ں کی موجودگی میں دفاع، تعلیم، زراعت اور اختراع جیسے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ ہوا۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے پریس بیان میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تیز کرنے کے لیے دورہ کرنے والے رہنما کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تجارتی معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ ضروری معدنیات کے معاہدے سے سپلائی کو تقویت ملے گی۔ دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپ اور کاروبار خلائی شعبے میں جڑیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اورکناڈاقابل تجدید توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیں گے اور اس سے متعلق ایک کانفرنس اس سال ہندوستان میں منعقد کی جائے گی۔ دفاعی شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک نے انڈیا-کناڈا دفاعی ڈائیلاگ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کناڈانے گلوبل بائیو فیول اور سولر انرجی الائنس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو انسانیت کے لیے مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے خلاف دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان اپنے تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی