چیف سکریٹری نے زراعی یونیورسٹی میں رابطہ پروگرام کا افتتاح کیا
چیف سکریٹری نے زراعی یونیورسٹی میں رابطہ پروگرام کا افتتاح کیا جموں، 02 مارچ (ہ س)۔ جموں کی زرعی یونیورسٹی میں آج زرعی و متعلقہ شعبوں کی مسابقت میں بہتری کے پروجیکٹ کے تحت صنعت اور نو قائم کاروباری اداروں کے درمیان رابطہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
Cs


چیف سکریٹری نے زراعی یونیورسٹی میں رابطہ پروگرام کا افتتاح کیا

جموں، 02 مارچ (ہ س)۔ جموں کی زرعی یونیورسٹی میں آج زرعی و متعلقہ شعبوں کی مسابقت میں بہتری کے پروجیکٹ کے تحت صنعت اور نو قائم کاروباری اداروں کے درمیان رابطہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا افتتاح ریاست کے چیف سکریٹری نے کیا۔ اس موقع پر سینئر سرکاری افسران، صنعت سے وابستہ افراد، کسان تنظیموں کے نمائندے، ماہرین تعلیم اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کا مقصد زرعی شعبے میں تعلیمی اداروں، صنعت اور نئے کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط تال میل قائم کرنا تھا تاکہ زرعی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔

چیف سکریٹری نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسان تنظیموں کو صرف پیداوار کی جمع آوری تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں پراسیسنگ، پیکنگ، شناختی نام کے فروغ اور قدر میں اضافے جیسے اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے نئے کاروباری اداروں کی کامیابی کے لیے چار اہم نکات پر زور دیا جن میں سازگار ماحول کی تشکیل، صلاحیتوں میں اضافہ، تجارتی وسعت اور باہمی رابطہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے میں کاروبار کو آسان بنانے، نئے کاروباری نظام کو مضبوط کرنے اور بینکاری تعاون کے ذریعے بروقت اور مناسب قرضوں کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر اون، مچھلی پروری، پھولوں کی کاشت اور ادویاتی و خوشبودار پودوں کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم ان شعبوں میں پراسیسنگ کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ ادارے اب صرف تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں رہے بلکہ علاقائی اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں درجنوں نئے کاروباری منصوبوں کی رہنمائی کی جا رہی ہے جن میں سے کئی کو سرکاری مالی معاونت بھی حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صرف مالی امداد کافی نہیں بلکہ نئے کاروباری اداروں کو توسیع، ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل اور تجارتی مراحل میں مسلسل رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ تحقیق، مصنوعات کی تیاری اور عملی آزمائشوں کے ذریعے نئے کاروباری اداروں کی سرپرستی کریں۔پروگرام کے دوران مختلف موضوعات پر مباحثے بھی منعقد کیے گئے جن میں متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب اختتام پذیر ہوئی تو منتظمین نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande