
نئی دہلی، 2 مارچ (ہ س)۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران پر امریکی اسرائیلی فوجی حملوں کے بعد ہوا ہے۔
پیر کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 7.60 فیصد بڑھ کر 78.41 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے خام تیل کی قیمت 7.19 فیصد اضافے کے ساتھ 71.86 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ دریں اثناء پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی سرکردہ تنظیم اوپیک نے آئندہ ماہ سے خام تیل کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب اور روس کی قیادت میں اہم ارکان روزانہ 260,000 بیرل اضافی پیداوار کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی عالمی فیوچر مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ خطے میں تیل کی سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشے کے پیش نظر تاجروں نے اپنی خریداری بڑھا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں خلل جاری رہا تو برینٹ کروڈ کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ سکتی ہے۔ وسیع تر علاقائی تنازع کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں طویل کشیدگی نقل و حمل اور سمندری انشورنس کے اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ خلیجی خطے میں سمندری راستے منقطع ہو سکتے ہیں جس سے تجارتی توازن پر اضافی دباو¿ پڑے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ