فوج کے اعلی افسر نے ضلع کشتواڑ کا دورہ کیا۔
جموں, 02 مارچ (ہ س) ضلع کشتواڑ میں حالیہ جھڑپ کے دوران کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے وابستہ تین پاکستانی دہشت گردوں کی ہلاکت کے چند روز بعد فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے پیر کے روز تمام دستوں کو چوکس، متحرک اور مشن پر مرکوز رہنے کی ہدایت دی ہے۔فوج کی و
Army


جموں, 02 مارچ (ہ س)

ضلع کشتواڑ میں حالیہ جھڑپ کے دوران کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے وابستہ تین پاکستانی دہشت گردوں کی ہلاکت کے چند روز بعد فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے پیر کے روز تمام دستوں کو چوکس، متحرک اور مشن پر مرکوز رہنے کی ہدایت دی ہے۔فوج کی وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے کشتواڑ کے پہاڑی ضلع میں سلامتی کی صورتحال اور جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ فوج کے مطابق انہوں نے جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ہر حال میں اعلیٰ معیار برقرار رکھنے پر زور دیا۔اس موقع پر انسدادِ بغاوت فورس (ڈیلٹا) کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل اجے سنگھ داباس بھی ان کے ہمراہ تھے، جنہوں نے حال ہی میں میجر جنرل اے پی ایس بال سے کمان سنبھالی ہے۔

فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈیلٹا فورس کی ثابت قدمی، آپریشنل توجہ اور فرض شناسی قابلِ ستائش ہے۔ تمام اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر کارروائی میں پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے مکمل مستعدی کا مظاہرہ کریں۔

واضح رہے کہ 22 فروری کو کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں دن بھر جاری آپریشن کے دوران جیشِ محمد کے تین دہشت گرد مارے گئے تھے، جن میں خود ساختہ کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیف اللہ گزشتہ ایک سال کے دوران بلند پہاڑی علاقوں میں ایک درجن سے زائد مقابلوں میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا تھا۔ادھر پولیس نے سیف اللہ اور اس کے گروپ کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے والے معاونین کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ان افراد کی تلاش میں ہیں جن پر خوراک، رہائش، رابطے کے ذرائع اور مالی مدد فراہم کرنے کا شبہ ہے۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کو براہِ راست یا بالواسطہ مدد فراہم کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande