امریکا کی ایران کودھمکی: اگر اس نے قطر پر حملہ جاری رکھا تو وہ دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ جنوبی پارس کو تباہ کر دے گا۔
واشنگٹن، 19 مارچ (ہ س)۔ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ایران کے میزائل حملے پر امریکا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہوئے تقریباً تین ہفتے ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا، ایران عرب خلیجی ممالک میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر پر اپنے ح
دھمکی


واشنگٹن، 19 مارچ (ہ س)۔ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ایران کے میزائل حملے پر امریکا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہوئے تقریباً تین ہفتے ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا، ایران عرب خلیجی ممالک میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر پر اپنے حملے تیز کر رہا ہے۔ اس نے عالمی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے قطر پر حملے جاری رکھے تو اس کے جنوبی پارس کو تباہ کر دیا جائے گا۔ جنوبی پارس کو ایران کی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے گیس فیلڈز پر اسرائیل کے حملوں سے اپنی انتظامیہ کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر ایران نے قطر پر حملے جاری رکھے تو امریکہ دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ 'ساو¿تھ پارس' کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے حملے بند نہ کیے تو وہ ایرانی گیس فیلڈ کو اڑا دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنوبی پارس پر اسرائیلی حملے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ تاہم، دو اسرائیلی حکام نے بدھ کو سی این این کو بتایا کہ یہ حملہ امریکہ کے ساتھ مل کر کیا گیا۔

تاہم، ایران نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر اپنے میزائل حملے سے دنیا کو چونکا دیا ہے، جس میں دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ایکسپورٹ ٹرمینل ہے۔ ایران نے 18-19 مارچ کی درمیانی شب اس ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔ قطر نے کہا ہے کہ ملک کی اہم گیس کی تنصیب راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ایرانی میزائل حملوں سے کافی نقصان پہنچا۔

اے بی سی نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ ایران نے پانچ بیلسٹک میزائل داغے۔ ان میں سے چار کو روکا گیا، لیکن ایک میزائل ٹرمینل پر لگا۔ ایران نے بھی اس حملے میں ڈرون کا استعمال کیا۔ قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ حملے سے ٹرمینل میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ راس لفان دنیا کی ایل این جی کا تقریباً 20 فیصد سپلائی کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد قطر نے ایل این جی کی پیداوار کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اس سے توانائی کی عالمی منڈی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت میں سات فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

قطر نے اس حملے کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے جواب میں قطر نے ایرانی سفارت خانے کے فوجی اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثنا، ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں حبشان گیس پلانٹ اور سعودی عرب میں ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے، جس سے وہاں سیکورٹی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

ابوظہبی میڈیا آفس نے کہا کہ ابوظہبی کے قریب گیس پلانٹس کو میزائلوں کو روکنے کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ میزائلوں نے حبشان گیس پلانٹ اور باب آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ دفتر نے کہا کہ گیس پلانٹس پر کام روک دیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ ان پلانٹس کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

غور طلب ہے کہ جنوبی پارس دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس فیلڈ ہے۔ خلیج فارس میں واقع یہ میدان ایران اور قطر کے درمیان مشترک ہے۔ قطر میں اسے شمالی میدان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے کل معلوم گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 1,800 ٹریلین مکعب فٹ) پر مشتمل ہے۔ اسے ایرانی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande