
تل ابیب، 18 مارچ (ہ س)۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایران کے اعلیٰ سلامتی مشیر ڈاکٹر علی لاریجانی کی حملے میں موت کے بعد اسرائیل کے خلاف زوردار کارروائی کی ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں 100 سے زائد ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ ڈاکٹر لاریجانی کی موت امریکہ-اسرائیل کی مربوط فوجی مہم میں ہوئی ہے۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ کا آج 19واں دن ہے۔
ایران کے پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، یہ معلومات سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان میں دی گئی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ-اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں اپنے آپریشن ’’ٹرو پرومس 4‘‘ کی 61ویں لہر کے دوران ان ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ملٹی وار ہیڈ والی ’خرم شہر-4‘ اور ’قدر‘ میزائلوں کے ساتھ ساتھ ’عماد‘ اور ’خیبر شکن‘ پروجیکٹائل کا استعمال کیا گیا۔ یہ حملہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سابق سکریٹری ڈاکٹر لاریجانی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا۔
پریس ٹی وی کے مطابق، اس حملے میں اسرائیل کے انتہائی جدید فضائی دفاعی نظاموں کو تباہ کر دیا گیا۔ نتیجے کے طور پر تل ابیب میں جزوی ’بلیک آوٹ‘ ہو گیا۔ اس وجہ سے اسرائیل کی فوج کو موجودہ حالات پر قابو پانے اور متاثرہ لوگوں کو بچانے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران، کور نے بتایا کہ آپریشن ’’ٹرو پرومس 4‘‘ کے تحت اب تک 230 سے زیادہ اسرائیلیوں کی موت ہو چکی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق، تل ابیب کے علاوہ مقدس شہر القدس، بندرگاہ حیفہ، بیر شیوا اور نیگیو ریگستان میں حساس اور اسٹریٹجک ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت اور سعودی عرب میں واقع امریکی تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔
سی این این چینل کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی قومی ہنگامی طبی، آفات سے نجات، ایمبولینس اور بلڈ بینک سروس ’میگن ڈیوڈ ایڈوم‘ (ایم ڈی اے) نے بتایا کہ وسطی اسرائیل میں ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ دونوں رامت گان شہر میں لہولہان ملے۔ میزائل کے ٹکڑے تل ابیب کے بالکل شمال میں واقع بنی براک شہر میں بھی گرے۔ اس دوران ایک شخص کو معمولی چوٹیں آئیں۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز نے ایکس پر لکھا، ’’ہوم فرنٹ کمانڈ کی ٹیمیں ملک کے وسطی حصے میں ان جگہوں پر فوری پہنچی ہیں، جہاں میزائل گرنے کی خبریں ملی تھیں۔ ہوم فرنٹ کمانڈ کی بچاو اور امدادی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ہوم فرنٹ کمانڈ نے رہائشیوں کو مشورہ دیا کہ اب وہ محفوظ مقامات (شیلٹر) سے باہر نکل سکتے ہیں۔‘‘
دریں اثنا، آئی ڈی ایف نے لبنان میں حزب اللہ کے راکٹ لانچروں اور جنگجووں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملوں کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ آئی ڈی ایف نے منگل کو بتایا کہ یہ اس کے آپریشن ’’رورنگ لائن‘‘ کا حصہ ہے۔ اس دوران، ’دپارٹمنٹ آف وار‘ نے ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں لکھا گیا ہے، ’’ہم صدر ٹرمپ کے احکامات کو پوری رفتار اور درستی کے ساتھ پورا کر رہے ہیں۔ آپریشن ’ایپک فیوری‘ نے ایران کی فوج کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔‘‘
امریکی بحریہ کے ایڈمرل اور کمانڈر بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو میں کہا، ’’ہم اپنے فوجی مقاصد پر پوری طرح توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ہمارا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور بحری خطرات کو ختم کرنا ہے۔ اب تک، ہماری فضائیہ، بحریہ اور میرین کور کے پائلٹوں نے مل کر 6,000 سے زیادہ جنگی پروازیں بھری ہیں۔‘‘ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے پاس ایران کے ساحل پر واقع ’’مضبوط ایرانی میزائل ٹھکانوں‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن