
پیرس،18 مارچ(ہ س)۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بننے کے ساتھ ہی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ فرانس نے اس وقت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اسے محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک جاری تنازعے میں فریق نہیں ہے۔عمانویل میکروں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے بلائے گئے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ ہم اس تنازعے میں فریق نہیں ہیں، لہٰٰذا فرانس موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اسے آزاد کرانے کی کارروائیوں میں ہرگز حصہ نہیں لے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فرانس جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اتحاد کی تشکیل کی تیاریوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے، جو اسے خطے میں کسی بھی فوجی تناؤ کے لیے ایک انتہائی حساس تزویراتی نقطہ بناتا ہے۔ایران اور دوسری جانب امریکہ و بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے آغاز سے ہی یہ آبنائے بین الاقوامی منظر نامے پر دوبارہ ابھری ہے۔ اس دوران جہاز رانی کی معطلی یا تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے براہ راست اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔گذشتہ برسوں کے دوران اس خطے میں بارہا ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا اور بحری جہازوں کو قبضے میں لینا شامل ہے، جبکہ ایران کی جانب سے حملے کی صورت میں آبنائے کو بند کرنے کی بار بار دی جانے والی دھمکیوں نے کسی بھی نئی کشیدگی کے بارے میں بین الاقوامی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔اسی تناظر میں عالمی طاقتیں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور سمندری گزرگاہوں کو فوجی رنگ دینے سے بچنے کی اپیل کر رہی ہیں، جبکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے براہ راست فوجی مداخلت کے حوالے سے مختلف ممالک کے موقف منقسم ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan