
جنیوا، 17 مارچ (ہ س)۔ اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ 2025 میں ایران کی بدنامِ زمانہ اوین جیل پر کیا گیا اسرائیل کا فضائی حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ تحقیقاتی سربراہ نے ساتھ ہی وارننگ دی کہ حالیہ امریکہ-اسرائیل حملوں کے بعد ایران میں اندرونی جبر مزید بڑھ سکتا ہے۔ سارہ حسین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ ماننے کی کافی وجوہات ہیں کہ اسرائیل نے 2025 میں اوین جیل پر حملہ کر کے ایک شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جو جنگی جرم مانا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جون 2025 میں تہران میں واقع اوین جیل پر ہوئے اس فضائی حملے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تقریباً 80 تھی، جن میں ایک بچہ اور آٹھ خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ نتیجہ متاثرین اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر دستاویزات کی بنیاد پر نکالا گیا ہے۔
اوین جیل طویل عرصے سے سیاسی قیدیوں کو رکھنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ حالیہ امریکہ-اسرائیل حملوں کے دوران بھی اس جیل کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس سے وہاں قید قیدیوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جیل میں ایک برطانوی جوڑے سمیت کئی غیر ملکی شہری بھی قید ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک اور انسانی حقوق کی ماہر مائی ساتو نے بھی قیدیوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد گرفتار کیے گئے کئی افراد کے اہل خانہ اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور جیلوں میں خوراک و ادویات کی کمی کی خبریں مل رہی ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے امریکہ-اسرائیل حملوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک ایران میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس دوران اسرائیل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے دوری اختیار کر لی ہے اور تحقیقات سے متعلق سوالات پر اس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری فوجی کارروائی کے باعث شہریوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے سنگین خدشات برقرار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن