
کابل، 17 مارچ (ہ س)۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تنازعہ پیر کی شب شدت اختیار کر گیا۔ پاکستان نے کابل کے ایک اسپتال پر حملہ کیا جس میں کم از کم 100 افراد کے ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ،پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تازہ حملے کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت نے واضح کر دیاہے کہ اب بات چیت اور سفارت کاری کا وقت ختم ہوچکا ہے اور افغانستان اس کا بدلہ لے گا۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک ماہ سے جاری کشیدگی کے درمیان حالات تیزی سے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ رات دیر گئے پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں انسداد منشیات کے مرکز کو نشانہ بنایا۔ حملے میں اسپتال کو کافی نقصان ہوا ہے ۔ آگ لگنے سے عمارت کا زیادہ تر حصہ تباہ ہوگیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے وقت مرکز میں دو ہزار سے زیادہ لوگ موجود تھے جن میں سے کم از کم ایک سو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جن میں سے کئی کو تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اسکی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
انسداد منشیات کے مرکز کے علاوہ، پاکستان کی طرف سے کابل میں کچھ اور مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔
افغان میڈیا گروپ طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان ( آئی ای اے ) کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں منشیات کی بحالی کے اسپتال کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے بعد اسلام آباد کے ساتھ سفارت کاری اور بات چیت کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ بات چیت کی بجائے ہم بدلہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس اسپتال میں نشے کے عادی مریضوں کا علاج کیا جا رہا تھا، اس پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں طبی امداد حاصل کرنے والے متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ مجاہد نے کہا، ”پاکستان کی فوجی حکومت نے ایک بار پھر ہمارے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے اسپتال کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں زیر علاج متعدد مریض شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ ہم اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے تمام انسانی اور اخلاقی معیارات کے خلاف سمجھتے ہیں“۔
افغانستان کے اسٹار کرکٹرز راشد خان اور محمد نبی نے کابل میں ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے راشد خان نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ”کابل میں پاکستانی فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے، گھروں، تعلیمی اداروں یا طبی سہولیات کو نشانہ بنانا، خواہ جان بوجھ کر ہو یا حادثاتی، ایک جنگی جرم ہے۔ انسانی جانوں کے لیے اس طرح کی بے توجہی، خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے معاشرے میں تشویش اورتقسیم بڑھے گی۔“
وہیں، محمد نبی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ گزشتہ رات کابل کے ایک اسپتال پر ہونے والے بم حملے نے امید کی کرن بجھادی، جس میں وہ نوجوان ہلاک ہوگئے جو اسپتال میں علاج کے لیے آئے تھے۔ نبی نے لکھا کہ مائیں اسپتال کے باہر اپنے بیٹوں کے نام پکارتی ہوئی انتظار کر رہی تھیںاور رمضان کی 28 ویں شب کو ان کی زندگیاں ختم ہو گئیں۔ انہوں نے اس واقعہ کو انتہائی دردناک قرار دیا۔
21 فروری کو ہونے والے ایک حملے کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ جواب میں دونوں ممالک نے حملے کیے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد